زندگی ریلوے لائن کے کنارے کنارے

1 2

ویت نام کے دارالحکومت میں ریلوے لائن سے چند انچ دور رستی بستی زندگی۔

Advertisements

تائیوان: جہاز کے حادثے میں ہلاکتوں کی تعددا 31 ہو گئی

150204060431__80771317_plane

اس حادثے میں اب تک 31 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 12 افراد لاپتہ ہیں۔

مرنے والوں میں اکثریت چینی باشندوں کی ہے۔ جن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ تمام سیاح تھے۔

اندرونِ ملک جانے والی اس پرواز میں 58 افراد سوار تھے اور امدادی اداروں کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والے 15 افراد کو نکال لیا گیا ہے اور وہ مقامی ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔ بچ جانے والے افراد میں ایک چھوٹا بچہ بھی شامل ہے۔

یہ جہاز تائی پے کے ہوائی اڈے سونگشن سے کن من جزیرے کی جانب روانہ ہوا تھا اور ہوائی اڈے سے اڑتے ہی پُل سے ٹکر کر دریا میں گر گیا تھا۔

جرمانہ نہ دینے پر بدنامی سٹیشن پر

150122144621_china_website_640x360__nocredit

چین کی ایک عدالت نے ان لوگوں کے نام اور تصاویر ایک اہم ریلوے سٹیشن کے سامنے ایک بڑی سکرین پر لگانا شروع کر دیے ہیں جو جرمانے کی رقم ادا نہیں کرتے۔

جنوبی صوبے ہنان کے شہر چینگشا میں یہ اقدام ان لوگوں کے خلاف کیا گیا جنھوں نے عدالت کے جرمانہ دینے کے حکم کی خلاف ورزی کی تھی۔

شیاؤشیانگ مارننگ پوسٹ کی ویب سائٹ کے مطابق سٹیشن کے باہر ایک بڑی سکرین پر ان افراد کی تصاویر نظر آتی ہیں اور ہر آنے جانے والا مسافر انھیں دیکھتا ہے۔ ان تصاویر کے ساتھ ان کے نام، شناخت اور شناختی کارڈ نمبر اور جتنی رقم انھوں نے ادا کرنی ہے درج ہے۔ زیادہ تر لوگوں نے تو 10,000 یوان یعنی 1600 امریکی ڈالر دینے ہیں لیکن سب سے زیادہ واجب ادا رقم 28 ملین یوان (4.5 ملین ڈالر) ہے۔

اگرچہ کچھ ماہرین نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے لیکن مقامی وکیل ڈینگ لونگ کہتے ہیں کہ عدالت کے پاس اس بات کا اختیار ہے کہ وہ جس طرح چاہے ان افراد کے ناموں کی تشہیر کرے جنھوں نے عدالت کے حکم کی نافرمانی کی ہے۔

چینی میڈیا نے ایسے بہت سے لوگوں کے انٹرویو کیے ہیں جنھوں نے اس اقدام کو سراہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ لوگوں کو مستقبل میں ایسا کرنے سے باز رکھے گا اور ان کی حوصلہ افزائی کرے گا کہ وہ رقم ادا کریں۔

ایک شخص نے شیاؤشیانگ مارننگ پوسٹ کو بتایا کہ ’اس سے ان لوگوں تک پیغام پہنچے گا کہ عدالت اپنے کام کے متعلق سنجیدہ ہے۔‘

سٹیشن کے باہر قطار میں کھڑے ایک شخص نے چائنا نیوز ایجنسی کو کہا کہ عدالت نے انھیں ظاہر کرنے کا ایک مشکل فیصلہ کیا ہے۔ ’یہ ایک اچھا کام ہے۔‘

چارلی ایبڈو کا پیغمبرِ اسلام کے خاکے والا شمارہ شائع

150113002702_charlie_hebdo_624x351_ap_nocredit

پیرس میں گذشتہ ہفتے مسلح افراد کے حملے کا نشانہ بننے والے فرانسیسی رسالے چارلی ایبڈو نے اپنا وہ نیا شمارہ فروخت کے لیے پیش کر دیا ہے جس کے سرورق پر پیغمبرِ اسلام کا خاکہ شائع کیا گیا ہے۔

یہ جریدے کے دفتر پر ہونے والے حملے میں 12 افراد کی ہلاکت کے بعد شائع ہونے والا پہلا شمارہ ہے۔

اطلاعات کے مطابق چارلی ایبڈو کے دفتر پر حملے کی وجہ ماضی میں پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کی اشاعت ہی بنی تھی۔

عموماً اس طنزیہ میگزین کے ایک شمارے کی زیادہ سے زیادہ 60 ہزار کاپیاں شائع ہوتی ہیں مگر رسالے کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس بار پوری دنیا میں اس کی مانگمیں اضافے کی وجہ سے تازہ شمارے کی 30 لاکھ کاپیاں شائع کی گئی ہیں۔

تازہ شمارے کے سرورق پر پیغمبرِ اسلام کے خاکے کے علاوہ رسالے کے اندر میں بڑی تعداد میں ایسے خاکے شامل کیے گئے ہیں جن میں ’مسلم انتہاپسندوں‘ کو دکھایا گیا ہے۔

یہ رسالہ انگریزی اور عربی سمیت چھ زبانوں میں دستیاب ہے اور اس کے مدیر اعلیٰ جیرارڈ بیارڈ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم خوش ہیں کہ ہم نے یہ کر دکھایا اور ہم ایسا کرنے کے قابل ہوئے۔ یہ مشکل کام تھا۔ سرورق کی تیاری پیچیدہ کام تھا کیونکہ اسے کچھ نیا پیغام دینا تھا اور وہ بھی اس سب سے متعلق جس کا ہمیں سامنا رہا ہے۔‘

اس رسالے کی اشاعت سے قبل ہی اس کا متنازع سرورق فرانسیسی ذرائع ابلاغ میں گردش کر رہا تھا۔

فرانس کے علاوہ امریکہ میں واشنگٹن پوسٹ اور برطانیہ میں گارڈین کے علاوہ جرمنی اور اٹلی کے اخبارات میں بھی اس سرورق کا عکس شائع ہوا ہے۔

یورپ اور امریکہ کے برعکس مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں اخبارات نے یہ خاکہ شائع نہیں کیا ہے۔

جی ایچ کیو حملہ کیس میں پھانسی کی سزا پانے والے عقیل عرف ڈاکٹر عثمان کو سزائے موت دینے کی تیاریاں مکمل.

راولپنڈی : جی ایچ کیو حملہ کیس میں پھانسی کی سزا پانے والے عقیل عرف ڈاکٹر عثمان کو سزائے موت دینے کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔

ڈان نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ آرمی چیف نے ڈاکٹر عثمان کے ڈیتھ وارنٹ پر گزشتہ رات دستخط کردیے تھے۔

ڈاکٹر عثمان کے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط ہونے کے بعد ان کو جیل کے ڈیتھ سیل میں منتقل کر دیا گیا تھا۔

عقیل عرف ڈاکٹر عثمان سے لواحقین کی آخری ملاقات کروا دی گئی ہے۔

ڈاکٹر عثمان نے اپنی وصیت بھی بھائی کے سپرد کردی ہے۔

جیل کے اطراف میں انتہائی سخت سیکورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عثمان کو آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں پھانسی کی سزا دی جا سکتی ہے۔

پھانسی کے بعد ڈاکٹر عثمان کی میت ان کے بھائی وصول کریں گے۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر عثمان پاک فوج میں میڈیکل کور کے اہلکار تھے انہوں نے آرمی چھوڑ کر عسکریت پسندوں میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔

ڈاکٹر عثمان پر الزام ہے کہ انہوں نے 10 اکتوبر 2009 کو جی ایچ کیو )جنرل ہیڈ کوارٹرز( پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی اور قیادت کی تھی۔

اس حملے میں 10 عسکریت پسندوں نے بھاری ہتھیاروں کے ذریعے حملہ کیا تھا جس سے 11 فوجی اہلکار مارے گئے تھے۔

واضح رہے کہ ملک بھر کی جیلوں میں دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت پانے والے دیگر مجرموں کو بھی پھانسی دینے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

ملک بھر میں حملوں کے خطرے کے باعث جیلوں کی سیکورٹی انتہائی سخت کردی گئی۔

’پہلے مرحلے میں 17 دہشت گردوں کو پھانسی دینے کا فیصلہ‘

140904195248_hanging_rope_640x360_bbc_nocredit

پاکستان میں حکام نے وزیرِ اعظم کی جانب سے دہشت گروں کی سزائے موت پر عملدرآمد کی اجازت دیے جانے کے بعد ملک کی مختلف جیلوں میں قید کم از کم 17 مجرموں کی فہرست تیار کی ہے جنھیں پہلے مرحلے میں پھانسی دی جائے گی۔

وزیرِ اعظم نواز شریف نےسزائے موت پر عملدرآمد کی بحالی کا اعلان پشاور میں طالبان شدت پسندوں کے حملے میں 132 بچوں سمیت 141 افراد کی ہلاکتکے بعد کیا تھا۔

وفاقی وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ ان مجرموں میں راولپنڈی میں فوج کے صدر دفتر اور کامرہ میں فضائیہ کے اڈے سمیت اہم فوجی اور سویلین تنصیبات پر حملہ کرنے والے شدت پسند بھی شامل ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان 17 افراد میں سے دس پنجاب، چھ سندھ اور ایک خیبر پختونخوا کی جیل میں قید ہے اور پنجاب میں زیادہ تر یہ قیدی فیصل آباد اور بہاولپور کی جیلوں میں ہیں۔

اہلکار نے بتایا کہ ان کے ناموں کا انتخاب وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار اور وزیرِ اعظم نواز شریف کی ملاقات میں کیا گیا تھا جس کے بعد یہ فہرست صدرِ مملکت کو بھیجی گئی۔

وزارتِ داخلہ کے اہلکار کا یہ بھی کہنا تھا کہ صدر مملکت کی جانب سے ان تمام مجرموں کی رحم کی اپیلیں مسترد کر دی گئی ہیں۔

سزاؤں پر عملدرآمد کے حوالے سے اہلکار کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ضروری دفتری کارروائی کا آغاز ہو چکا ہے اور جلد از جلد سزائے موت کے احکامات پر عمل ممکن بنایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان میں ایک اہم نام عقیل عرف ڈاکٹر عثمان نامی دہشت گرد کا ہے جو اس وقت فیصل آباد کی جیل میں قید ہے۔

عقیل عرف ڈاکٹر عثمان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا بنیادی تعلق کالعدم لشکر جھنگوی سے ہے اور انھیں اکتوبر سنہ 2009 میں جی ایچ کیو پر ہونے والے حملے کا منصوبہ ساز سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان میں مسلم لیگ نواز کی حکومت نے برسرِاقتدار آنے کے بعد پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔

تاہم اگست 2013 میں تحریک طالبان پاکستان نے حکومت پنجاب اور حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کو دھمکی دی تھی کہ اگر عقیل سمیت ان کے چار ساتھیوں کو پھانسی دی گئی تو پنجاب حکومت کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کر دیا جائے گا۔

اس دھمکی کے بعد حکومت کی جانب سے اگرچہ ملک میں سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کا حکم تو جاری نہیں کیا گیا تاہم نواز شریف کے اس دورِ حکومت میں تاحال کسی بھی مجرم کو پھانسی نہیں دی گئی ہے۔

اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے ملک میں پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روک دیا تھا اور 2008 سے 2013 کے دوران صرف دو افراد کو پھانسی دی گئی تھی اور ان دونوں کو فوجی عدالت سے پھانسی کی سزا ہوئی تھی۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے پاس موجود اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں اس وقت ساڑھے آٹھ ہزار کے قریب ایسے قیدی ہیں جنھیں موت کی سزا سنائی جا چکی ہے اور ان کی تمام اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں۔

تاہم ایک غیر سرکاری تنظیم جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی جانب سے حال ہی میں جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان مجرموں میں سے 10 سے 12 فیصد قیدی ہی ایسے ہیں جنھیں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت سزائے موت سنائی گئی ہے۔

بی بی سی اردو سے گفتگو میں ادارے کی سربراہ سارہ بلال نے بتایا تھا کہ سنہ 2012 تک کے اعدادوشمار کے مطابق ’پنجاب میں 641، سندھ میں 131، خیبر پختونخوا میں 20 جبکہ بلوچستان میں دہشت گردی ایکٹ کے تحت موت کی سزا پانے والوں کی تعداد 26 ہے۔‘

PML-N wants to turn Imran into a leader: Shah

804082-KhursheedShahAFP-1418118282-848-640x480

ISLAMABAD: Leader of the Opposition in the National Assembly Khursheed Shah on Tuesday said it appears that the ruling Pakistan Muslim League-Nawaz government wishes to make Pakistan Tehreek-e-Insaf chairman Imran Khan a leader.

Criticising the government’s handling of the PTI’s call for a lockdown in Faisalabad, which led to the death of a PTI activist in violent clashes on Monday, Shah said such tactics were turning Imran into a hero in the eyes of the public.

“When workers of parties clash it creates a civil war-like situation which is very dangerous.”

“Just as PML-N had shut offices in Gujranwala, they should have done the same in Faisalabad to avoid conflict,” he added.

“The government makes mistakes themselves and then blames the establishment for creating problems,” Shah claimed, urging Prime Minister Nawaz Sharif to “open his eyes.”

“Nawaz Sharif’s own team has created problems for him,” the Pakistan Peoples Party stalwart alleged, while speaking to media representatives in his chamber.

Further, Shah said the government and Imran should realise that if the situation worsens they along with the state will suffer.

Shah reiterated that dialogue between the government and the protesting PTI was the only way to end the current political impasse.

“[Finance Minister] Ishaq Dar called me and informed me about the government’s willingness to negotiate,” he said.

Further, regarding the PTI’s call for a shutdown in Karachi on December 12, Shah said, “They can protest peacefully but we will not allow anyone to create chaos and violence.”

Body found in sunken Sewol ferry in South Korea

_78573671_021929905-1

Search divers in South Korea have found a body in the sunken Sewol ferry, six months after it capsized leaving more than 300 people, mainly students, dead.

The body was found in a woman’s toilet, said Yonhap. It is the first body to be recovered in three months.

The ferry carrying 476 people sank in April. The official death toll stands at 295, but nine bodies have yet to be recovered by rescue teams.

The captain of the ferry is standing trial, charged with negligent homicide.

Prosecutors have sought the death penalty for Lee Joon-seok and harsh penalties for the crew.

On Monday they concluded putting their case before a court in the city of Gwangju. They argued he did not make any effort to rescue passengers and deserved a death sentence.

The last time divers found a body was on 18 July when a female cook was found in the ferry’s cafeteria.

The families of the missing passengers have refused to allow the ship to be hoisted up as they are concerned that the rest of the bodies might be swept out to sea.

Investigators have said a combination of cargo overloading, illegal modification of the vessel and inexperienced helmsmanship was behind the disaster.

The ship’s sinking sparked widespread grief and anger in South Korea.

Hawaldar Anchors in Pakistan

By Haris Hashmi • Oct 23rd, 2014
On social media, the term ‘hawaldar anchor‘ is used for those Pakistani TV anchors who explicitly, shamelessly, brazenly, and immorally support establishment and its toadies. In the recent London Plan conspiracy, where 90% of media was compromised by the handlers, numerous hawaldar anchors surfaced to the scene.

In Pakistan, there always been journalists who remain on the payroll of agencies, politicians, mafias, foreign countries, NGOs etc. Lifafa journalists is another notorious term which refers to the journalist who takes money from the politicians. Earlier it only referred to the journalists who took money from Sharif brothers, and now is widely used for any journalist who takes money from any politician.

The main difference between these days and the days of yore is that there was some semblance of curtain over these shady dealings. It was all done behind the scene, and it was kind of hard for the common people to identify the lifafa journalists. But for the last few months, in electronic media, the moment an anchor or analyst opens his or her mouth, you can tell his or her affiliation with closed eyes.

So much is the status of journalism is in Pakistan right now, that the whole channels with all their anchors, reporters, analysts, editors and other staff have been bought and being used. The prime example is ARY News. Not a single person working in ARY is neutral or unbiased. All of their anchors are supporting Imran, Qadri, and establishment. Everybody has his own mode of crime.

From Mubasher Lucman to Sami Ibrahim, from Kashif Abbassi to Dr. Danish, and all the other anchors and analysts are proving more loyal to establishment than establishment. For the last 5 months, they are on the mission of throwing out the Nawaz regime, but have failed so far. They were unable to win election for Imran Khan and now they are unable to make him premier through shortcut so far.

In Express News and Dunya News, 90% of anchors and analysts are hawaldars. From Arshad Sharif to Shahzeb Khanzada, from Waseem Badami to Kamran Shahid, from Mehar Bukhari to Asma Sherazi, from Nadeem Malik to scores of others are disgustingly hawaldars.

Most of these hawaldar anchors have landed through parachute in this profession. They know very well that there only way to earn blind money and live like a price is to keep spreading lies, sensation and anarchy and completing the agenda of establishment to not to let a democratic government strengthen.