اسلام آباد : پاک فضائیہ (پی اے ایف) کے فلائنگ آفیسر جنید سلیم نے برطانیہ کی رائل ایئرفورس اکیڈمی میں ’’بہترین غیر ملکی کیڈٹ ‘‘ کا ایوارڈ حاصل کرلیا ۔

558c4814de57c

پاکستان ایئرفورس کے فلائنگ آفیسر جنید سلیم کو ایک خصوصی تقریب میں اس ایوارڈ سے نوازا گیا۔

برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن نے جنید سلیم کی اس کامیابی کا جشن منانے کے لئے جمعرات کو ایک تقریب کا انعقاد کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان ہائی کمشنر سید ابن عباس نے پاک فضائیہ کے آفیسر کو ملک کا نام روشن کرنے اور غیرمعمولی کامیابی پر مبارکباد دی ۔

ان کا کہنا تھا جنید سلیم کی کامیابی پاکستان ایئرفورس کے اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار کا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنید سلیم کی کامیابی نہ صرف پاک فضائیہ بلکہ پوری پاکستانی قوم کے لئے اعزاز کی بات ہے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے تعلیمی اور تربیتی ادارے کسی سے کم نہیں۔

اس موقع پر جنید سلیم نے اپنی کامیابی کو پاک فضائیہ کی رسالپور اکیڈمی میں تربیت اور والدین کی دعاؤں کا نتیجہ قرار دیا۔

فلائنگ آفیسر نے کہا کہ ان کی کامیابی ملک میں امن و استحکام کیلئے دہشت گردوں سے برسرِ پیکار پاکستانی مسلح افواج کا حوصلہ بلند کرے گی۔

قائدِ اعظم کے آخری الفاظ تھے ’خدا پاکستان کی حفاظت فرما ۔۔۔۔ہمارے بعد الطاف الط۔۔۔۔۔‘

_69655861_jinnah2getty 1429690959207651_83903702

وسعت اللہ خان

’ کہا جاتا ہے کہ جب قائدِ اعظم محمد علی جناح بہت زیادہ علیل تھے تو لیاقت علی خان نے ان سے کہا کہ جب ہمارے جیسے لیڈر پاکستان میں نہیں رہیں گے تو پھر اس پاکستان کو آگے کیسے بڑھایا جائے گا۔ قائدِ اعظم نے کہا کہ ہم نہ ہوں گے تو ہمارے بعد الطاف الطاف۔ تو آپ کو یہ نعرہ لگانے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ بات تو انڈر سٹڈ ہے کہ اگر قائدِ اعظم کے ویژن کا کوئی صحیع وارث ہے تو وہ قائدِ تحریک الطاف حسین ہیں۔‘

( بحوالہ ڈاکٹر فاروق ستار ، رکنِ قومی اسمبلی ، سابق وفاقی وزیر و سابق مئیر کراچی)

کم ازکم مجھے ذرا بھی شک نہیں کہ ایسا ہی ہوا ہوگا۔ کیوں کہ جناح صاحب کوئی عام رہنما نہیں تھے، مدبر تھے اور مدبر وہ ہوتا ہے جو مستقبل میں جھانکنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور دیوار کے آر پار دیکھ سکتا ہے۔

لوگ اس تاریخی انکشاف پر طرح طرح کی چے مے گوئیاں کر رہے ہیں۔ کچھ مذاق سمجھ رہے تو کچھ کچھ بھی نہیں سمجھ رہے۔

بعض بال کی کھال نکالنے والوں کا خیال ہے کہ جناح صاحب نے جب یہ بات کہی ہوگی تو ان کے ذہن میں روزنامہ ڈان کے ایڈیٹر الطاف حسین ہوں گے کیونکہ قائدِ تحریک الطاف حسین تو اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ لہذٰا جناح صاحب کیسے کہہ سکتے تھے کہ ہم نہیں تو ہمارے بعد الطاف۔

مگر میں فاروق ستار کے ساتھ ہوں۔ جانے کیوں انہوں نے پورا واقعہ نہیں سنایا۔ ہوا یہ کہ جب جناح صاحب خرابیِ صحت کے سبب کراچی سے زیارت ریزیڈنسی منتقل ہوئے تو اکثر وہ تنہائی سے تنگ آ کے ریزیڈنسی کے باغ میں ٹہلا کرتے اور پھولوں پودوں کو دیکھ کے دل بہلاتے۔

ایک روز ان کی نظر کروٹن کے پتوں پر پڑی تو دیکھا کہ ایک پتے پر کوئی انسانی شبیہہ ہے۔ چونکہ جناح صاحب جہاندیدہ تھے اس لیے ترنت سمجھ گئے کہ یہ شبیہہ دراصل آسمانی اشارہ ہے کہ پریشان مت ہو۔ تمہارے وارث کا انتظام ہو گیا ہے۔ جناح صاحب کے چہرے پر ایک عرصے بعد اطمینان اور مسکراہٹ کی لہر آئی اور اس رات انہیں بہت دنوں بعد سکون کی نیند آئی۔

اگلے روز لیاقت علی خان کراچی سے مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے تو جناح صاحب نے پتے والا واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ میں اور تم تب تک شاید نہ ہوں اس لیے میں اس شبیہہ کو الطاف کا نام دے رہا ہوں۔

کاش جناح صاحب کے ذاتی معالج کرنل الہی بخش، سوانح نگار پوتھن جوزف اور رضوان احمد زندہ ہوتے تو اس واقعہ کی تصدیق ضرور کرتے۔ مگر یہ کوئی ایسا واقعہ نہ تھا کہ آئندہ نسلوں سے پوشیدہ رہتا۔ چنانچہ فاروق ستار نے گذشتہ روز قوم کی امانت قوم تک پہنچا دی۔

جب دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی یہ بات مانی جاسکتی ہے کہ بھارت ورش میں ڈیڑھ لاکھ سال پہلے ہوائی جہاز اڑا کرتے تھے۔ جب اس پہ کسی کو اعتراض نہیں کہ محمد بن قاسم پہلے پاکستانی تھے۔ جب جارج بش کی یہ دلیل ہضم ہوسکتی ہے کہ انھیں خداوند نے بشارت دی کہ عراق پر قبضہ کرلو۔

جب یہ بات قابلِ فہم ہے کہ شیخ الاسلام علامہ طاہر القادری 14 برس امام ابوحنیفہ کے شاگرد رہے۔ جیسے پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف کو یقین ہے کہ اصل قربانی دینے والے مہاجر صرف وہ ہیں جو مشرقی پنجاب اور جموں سے لٹ پٹ کر پاکستان پہنچے تو پھر یہ ماننے میں کیا ہچر مچر کہ جناح صاحب اور لیاقت علی خان ایک ساتھ بول اٹھے

ہم نہ ہوں گے تو ہمارے بعد الطاف الطاف۔

ارے ہاں! ایک اہم بات تو فاروق ستار صاحب نے بتائی ہی نہیں۔ جب جناح صاحب 11 ستبمر 1948 کو حالت بگڑنے کے سبب زیارت سے بذریعہ طیارہ کراچی پہنچائے گئے تو انہیں ماری پور بیس سے گورنر جنرل ہاؤس لانے والی ایمبولینس راستے میں ہی خراب ہو گئی۔

قائدِ اعظم کے آخری الفاظ تھے ’خدا پاکستان کی حفاظت فرما ۔۔۔۔ہمارے بعد الطاف الط۔۔۔۔۔‘

( فاروق ستار سے حوصلہ پا کے کہیں کل کلاں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ 1947 میں تقسیم نہیں چائنا کٹنگ ہوئی تھی ۔۔)

Nestle withdraws Maggi noodles in India after food scare

55714f1d494dc

MUMBAI: Food group Nestle has withdrawn Maggi noodles from sale in India due to “an environment of confusion for consumers”, following a food scare sparked by reports of excess lead in some packets of the popular instant snack.

Nestle reiterated the noodles were safe, but after coming under fire in local media for reacting too little and too late, the group said it would recall the product regardless.

At least six Indian states have banned Maggi noodles after tests revealed some packets contained excess amounts of lead. On Thursday, Tamil Nadu became the first state to ban several brands of instant noodles, including Nestle.

“The trust of our consumers and the safety of our products is our first priority,” the group said in a statement on Friday.“Unfortunately, recent developments and unfounded concerns about the product have led to an environment of confusion for the consumer to such an extent that we have decided to withdraw the product off the shelves, despite the product being safe.”

Nestle India said on Wednesday it had conducted internal and external tests of 125 million Maggi packets which showed “lead levels are well within the limits specified by food regulations and that Maggi noodles are safe to eat.”

Maggi noodles, which sell at roughly a dozen rupees per single-serving packet, are a hugely popular snack in India, served to children and in roadside shacks across the country. Maggi has long been market leader.

The food scare is a reminder of Indian consumers’ growing affluence and subsequent increased health awareness, at a time when social media can turn a scare in one state into a national cacophony within hours.