ایگزیکٹ: پہلے کیا، آگے کیا؟

150423191226_sp_fbi_624x351_afp

ایگزیکٹ کیس کے معاملے میں پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔

لیکن ایف بی آئی کے ایک سابق اہلکار کے مطابق ایف بی آئی کی جعلی ڈگریوں کے معاملے میں دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے اور اس کی روک تھام کے لیے باقاعدہ قوانین بھی نہیں۔

سابق ایف بی آئی ایجنٹ ایلن ایزل ماضی میں ایسی تفتیش کا حصہ رہ چکے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان معاملوں سے منی لانڈرنگ اور پوسٹل فراڈ جیسے قانون استعمال کر کے ہی نمٹا جاتا ہے۔ ’اور یہ بھی تب ہی ممکن ہے جب پاکستان اپنی تفتیش کی مکمل تفصیلات امریکہ کو فراہم کرے۔ اگر پاکستان اس معاملے سے متعلق کون، کیا، کب اور کہاں کی مکمل فہرست فراہم نہیں کرتا تو ایف بی آئی کیا کر سکتی ہے؟‘

ان کے تحفظات کی کئی وجوہات ہیں۔ جعلی ڈگریوں کا سکینڈل کوئی نئی بات نہیں بلکہ اس نوعیت کے فراڈ کی تاریخ سات سو سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ لیکن انٹرنیٹ آنے کے بعد نہ صرف اسے ایک نئی زندگی ملی بلکہ پھلنے پھولنے کے لیے پہلے سے ایک بہت بڑی دنیا بھی۔

ڈاکٹر جان بئیر فاصلاتی تعلیم کے ماہر ہیں اور ان کی کئی کتابوں میں سے ایک ’ڈگری ملز‘ کے عنوان سے بھی ہے۔ ڈاکٹر بیئر نے بی بی سی اردو کو بتایا: ’انٹرنیٹ نے نہ صرف ڈگری ملوں کے اخراجات کم کر دیے بلکہ ایسی ملیں چلانے والوں کو گمنام رہنے کی سہولت بھی دے دی۔‘

اس کی وجہ سے یہ کاروبار کس قدر پھیلا، اس کا جامع تعین تو ممکن نہیں لیکن ایلن ایزل کے اندازے کے مطابق یہ سالانہ ایک ارب ڈالر سے بھی بڑا کاروبار ہے جس میں دنیا بھر میں ہر سال دس لاکھ سے زائد جعلی ڈگریاں فروخت ہوتی ہیں۔

لیکن ڈاکٹر بیئر کے مطابق اس کے باوجود اس معاملے سے نمٹنا امریکی ترجیحات میں شامل نہیں۔’ہم دہشت گردی یا منشیات کو اپنا اصل دشمن سمجھتے ہیں۔ جعلی ڈگریاں ہمارے لیے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتیں۔‘

شاید اسی لیے اس معاملے سے نمٹنے کی لیے امریکہ میں نہ تو خاص قوانین ہیں اور نہ ڈپلومہ ملز کی کوئی مخصوص تشریح۔ اگر کوئی ڈگری جعلی ثابت ہو بھی جاتی ہے تو دفاع کے وکیل یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ خریدنے والے نے یہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے ڈگری خریدی اس لیے اس کو فراڈ نہیں کہا جا سکتا۔

یہ ایک بڑی وجہ ہے کہ امریکہ میں یہ کاروبار بڑے وسیع پیمانے پر کیا جا چکا ہے۔

ایسا ایک مشہور کیس یونیورسٹی ڈگری پروگرام کے نام سے 1990 کی دہائی میں سامنے آیا۔ اس میں جیسن اور کیرولائن ابراہم نامی دو امریکنوں نے رومانیہ اور اسرائیل میں قائم کال سنٹرز کے ذریعے دو لاکھ جعلی ڈگریاں بیچ کر تقریباً 40 کروڑ ڈالر کمائے۔

سینٹ ریجس کے نام سے ایسے ہی ایک اور کاروبار میں ڈکسی اور سٹیو رینڈاک نامی امریکیوں نے 22 ملکوں میں پھیلی 121 جعلی یونیورسٹیوں کے ذریعے 131 ملکوں کے گاہکوں میں 73 لاکھ ڈالر کی ڈگریاں فروخت کیں۔

اس کے باوجود تین برس پر پھیلی تفتیش کے بعد رینڈاکس کو جعل سازی کے الزام میں محض تین برس قید ہوئی۔

ان مشکلات کی ایک بنیادی وجہ انٹرنیٹ دور میں اپنے نقش قدم چھپانے کی آسانی ہے۔ آپ سائبر سپیس میں جعلی یونیورسٹی تو بنا سکتے ہیں لیکن اسے ختم کرنے کے لیے عدالتوں کو حقیقی دنیا میں ٹھوس ثبوت چاہیے ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جعلی ڈگریاں حاصل کرنے والے اعلیٰ سرکاری عہدوں پر جا پہنچتے ہیں۔ مثلاً ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سینٹ ریجس سے ڈگری حاصل کرنے والوں میں سے کم از کم ایک سو پینتیس افراد وفاقی حکومت کے ملازم تھے جن میں سٹیٹ ڈپارٹمنٹ، جسٹس ڈپارٹمنٹ اور وہائٹ ہاؤس کے ملازمین بھی شامل تھے۔

اسی طرح دو ہزار تین میں ہونے والے انکشافات میں پتہ چلا کہ امریکہ میں چار سو چونسٹھ وفاقی ملازمین کی ڈگریاں بوگس تھیں۔ ان میں ہوم لینڈ سیکیورٹی کی ڈپٹی چیف انفارمیشن آفیسر لارا کیلیہن بھی شامل تھیں۔

یونیورسٹی آف الینوئے کے پروفیسر جارج گولن ڈپلوما ملز کے خلاف جدوجہد میں پیش پیش ہیں۔ انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ وفاقی اہلکاروں کی جعلی ڈگریوں پر بھی کم ہی کوئی کارروائی ہوتی ہے۔ ’جب بھی کسی وفاقی اہلکار کی ڈگری جعلی نکلتی ہے تو سب ہی کی کوشش اس پر پردہ ڈالنے کی ہوتی ہے کیونکہ مزید تفتیش ان لوگوں کو نوکریاں دینے والوں کے لیے بھی شرمندگی کا باعث بن سکتی ہے۔‘

اس سے کہیں زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ خود انتہاپسندوں نے بھی پیسے کمانے کے لیے جعلی ڈگریوں کے کاروبار کا سہارا لیا ہے۔ آندریس بریوک نے، جس نے 2011 میں ناروے کے ایک جزیرے پر 77 نوجوان قتل کر دیے تھے، واردات سے پہلے جعلی ڈگریاں بیچ کر دس لاکھ ڈالر کمائے تھے۔

لیکن اس کے باوجود اس فراڈ کے خلاف موثر کاروائی انتہائی مشکل ہے۔ ایگزیکٹ سے منسلک ویب سائٹوں کی تعداد 370 بتائی جا رہی ہے اور اس کے ملازمین دو ہزار سے بھی زیادہ۔ اسی لیے سابق ایف بی آئی ایجنٹ ایلن ایزل کہتے ہیں کہ ایگزیکٹ ایک نئی ہی قسم کا موذی ہے۔ ’یہ کوئی عام ڈپلوما مل نہیں۔ یہ اس نوعیت کا سب سے بڑا کیس ہے۔‘

ڈاکٹر بیئر کے مطابق سو ملکوں میں پھیلے اس کاروبار کے خلاف شواہد اکٹھے کرنا آسان نہیں کیونکہ ان میں سے بہت سے ملکوں کو اس کے ذریعے لاکھوں ڈالر کا فائدہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ہر ملک کے اپنے قوانین ہیں اور ان سے تعاون حاصل کرنے کے لیے ایک انتہائی مضبوط عزم اور لمبا عرصہ درکار ہے۔

یہ کسی طاقتور کو ڈھیر ہوتے ہوئے دیکھنے کا لطف ہے یا معاشرے میں بدعملی کم کرنے کی خواہش؟ جو بھی ہے، لیکن ایگزیکٹ کے معاملے میں انصاف کی دہائی جس طرح سے پاکستانی میڈیا پر گونج رہی ہے اس کی شاید ہی کوئی مثال ملتی ہو۔

اس میں شک نہیں کہ اپنے کاروباری مفاد اور ’بغض‘ کے باعث ایگزیکٹ کیس کی پیشرفت میں حکومت سے کہیں زیادہ میڈیا دلچسپی لے رہا ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں اس کیس کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹوں کے علاوہ میڈیا میں اس معاملے پر حکومتی عزم پر تشویش نظر آتی ہے وہیں یہ امید بھی اس معاملے کی بین الاقوامی نوعیت کی وجہ سے ملزم کو مجرم ثابت کرنے کا یا تو کوئی نہ کوئی رستہ نکل آئے گا یا نکال لیا جائے گا۔

تاہم اگر ماضی میں سامنے آنے والے اسی نوعیت کے سکینڈلوں پر نظر ڈالی جائے تو یہی لگتا ہے کہ ابھی جزا سزا کا تعین کرنے میں بہت وقت لگے گا۔ جعلی ڈگریوں کے اس گدلے تالاب میں قانونی پیچیدگیوں کا ایک ایسا سمندر ہوتا ہے جس کی تہہ میں چھپے ثبوت تلاش کرنے کے لیے مہینے نہیں سالہاسال درکار ہوتے ہیں۔

اور اگر آخرکار کسی کو سزا ہو بھی جائے تو وہ سکینڈل کی باز گشت کے مقابلے میں محض ایک سرگوشی سی ہوتی ہے۔

بیالیس سال تک کوما میں رہنے والی نرس کی موت

150518052014_aruna_shanbaug_640x360_afpgetty_nocredit

ممبئی کے ایک ہسپتال میں چار دہائیوں تک کوما میں رہنے والی نرس ارونا شانباگ پیر کو 68 سال کی عمر میں فوت ہو گئی ہیں۔

سنہ 1973 میں کنگز ایڈورڈ میموریئل (کے ای ایم) ہسپتال کے ایک ملازم نے انھیں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

اس واقعے کے دوران ان کے سر پر گہری چوٹ آئی، بینائی جاتی رہی اور کانوں سے سننا بھی کم ہو گیا اور ارونا کے دماغ کو آکسیجن نہ مل پانے کی وجہ سے وہ کوما میں چلی گئی تھیں۔

انھیں کے ای ایم ہسپتال میں ہی رکھا گیا تھا اور ہسپتال کے عملے نے ہی ان کی چار دہائیوں تک دیکھ بھال کی کیونکہ ان کے رشتے داروں نے بھی انھیں دیکھنے آنا بند کر دیا تھا۔

کے ای ایم ہسپتال کے ڈیوٹی افسر ڈاکٹر پروین بانگر کے مطابق ’پیر کی صبح بھارتی وقت کے مطابق ساڑھے آٹھ بجے ارونا شانباگ کی موت واقع ہو گئی۔‘

وہ گذشتہ چار دنوں سے وینٹیلیٹر پر تھیں۔ انھیں نمونیا ہو گیا تھا۔

ارونا شانباگ کے ساتھ اسی ہسپتال کے ایک ملازم سوہن لال والمکی نے 42 سال قبل ریپ کیا اور انھیں گلا گھونٹ کر قتل کرنے کی کوشش کی اور بعد میں مردہ سمجھ کر چھوڑ چلا گیا۔

ارونا شانباگ پر کتاب لکھنے والی پنکی ويراني نے سپریم کورٹ میں درخواست داخل کی تھی کہ ارونا کو مرسی کلنگ یعنی رحم کی بنیاد پر موت کی اجازت دی جائے۔

اس پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے ہسپتال کی نرسوں اور سٹاف کی تعریف کی جنھوں نے گذشتہ 42 سالوں سے ارونا کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، ان کا اتنا خیال رکھا کہ ارونا کو اتنے برسوں بستر پر لیٹے رہنے کے باوجود ایک بھی زخم نہیں ہوا۔

ہسپتال کی میٹرن ارچنا جادھو نے ایک بار کہا تھا کہ ’ہسپتال کے تمام لوگ ارونا کی خدمت اپنے گھر کے فرد کی طرح کرتے رہے اور کوئی بھی انھیں رحم کی بنیاد پر ابدی نیند سلانے کے حق میں نہیں تھا۔‘