سعودی عرب میں ’خاکروب بچی‘ کی تلاش

ایک خوش لباس سعودی شخص نے ایک مہاجر لڑکی کی تصویر سوشل میڈیا پر تضحیک کے طور پر پوسٹ کی لیکن لوگ اس لڑکی کی مدد کے لیے اس کی تلاش مصروف ہیں۔

اس شخص نے کوڑا چننے والی اس افریقی مہاجر بچی کے ساتھ اپنے موبائل سیٹ پر سیلفی لے لی جو جدہ کے ایک کوڑے دان سے کچھ چن رہی تھی۔

تصویر میں وہ 10 سال کی ایک لڑکی نظر آتی ہیں اور انھوں نے الاتحاد فٹبال ٹیم کی ٹی شرٹ پہن رکھی تھی جس پر سعودی شخص طنز کرنے سے باز نہ رہ سکا۔

یہ تصویر سنیپ چیٹ پر پہلے پہل ڈالی گئی تھی

اس نے تصویر کے ساتھ لکھا: ’دیکھیں الاتحاد کہاں پہنچ چکا ہے، کوڑے دان میں۔‘

ان کی جانب سے یہ تصویر سنیپ چیٹ پر ڈالی گئی تھی جسے بعد میں ہٹا لیا گیا تاہم یہ تصویر دیگر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر گردش کرتی رہی۔

بہت سے لوگوں کو یہ تصویر مذاحیہ نہ لگی اور آن لائن پر زیادہ تر لوگوں نے اس پر غم و غصے کا اظہار کیا۔

لوگوں نے اسے بھدے مذاق سے تعبیر کیا یہاں تک کہ سعودی شخص کو نسلی امتیاز کا مرتکب بھی قرار دیا جس نے اس اقدام کے لیے ایک غریب بچی کا سہارا لیا۔

ایک شخص نے ٹوئیٹر پر لکھا ’یہ ایک تشہیری بازی گری ہے۔ بیچاری لڑکی کو تو یہ بھی نہیں معلوم ہوگا کہ کیا ہو رہا ہے۔‘

اس واقعے نے سعودی باشندوں اور مہاجروں کے درمیان کی کشیدگی کو بھی پیش کیا ہے۔ باہر سے آنے والے یہاں مشکل کام کرتے ہیں اور مشکل حالات میں گزربسر کرتے ہیں۔

پہلے اس ملک میں دوسرے ملکوں سے کام کرنے کے لیے آنے والوں کے حقوق کے بارے میں کوئی ہمدردی نہیں تھیں اور یہ ضرور ہے کہ اس واقعے پر بہت سے تبصرے دوسرے ملکوں سے ہوئے ہیں تاہم اس بار بہت سے سعودیوں نے بھی اس شخص کی مذمت کی ہے۔

بعد میں اس شخص نے اسے تحفے بھی دیے جبکہ بہت سے لوگ اس لڑکی کی امداد کو سامنے آئے ہیں

ایک سعودی خاتون نے ٹوئیٹ کیا: ’یہ شخص ہماری عزت نہیں کرتا۔‘

بعد میں اس شخص نے یوٹیوب پر ای ویڈیو پوسٹ میں معافی مانگی اور وہ اس بجی کے پاس پھر سے گیا اور اسے تحفے دیتے ہوئے اس کے ساتھ اپنی ایک تصویر پوسٹ کی ہے۔ جبکہ دوسرے اس کی مدد کے لیے آگے آئے ہیں۔ چونکہ انھیں اس بچی کا پتہ نہیں معلوم اس لیے ’جدہ کی بچی کی تلاش‘ کے ہیش ٹیگ سے تقریبا دو لاکھ ٹوئیٹ کیے گئے ہیں۔

ایک الاتحاد کے امیر مداح نے اس لڑکی کو 16 ہزار امریکی ڈالر دینے کا عہد کیا ہے تو سعودی ریسنگ کار کے ڈرائیور یزید الرجحی نے ایک لاکھ امریکی ڈالر کا وعدہ کیا ہے۔

لندن میں مقیم ایک سعودی شوسل میڈیا مبصر فورغن المدحی کا کہنا ہے کہ ’سعودی سماج بہت فیاض ہے۔۔۔ لیکن یہاں یہ دیکھنا ہے کہ لوگوں نے جو وعدہ کیا ہے اسے پورا بھی کرتے ہیں۔‘

آخری اطلاعات تک ابھی تک لڑکی کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s