سعودی بمباروں کا انعام بینٹلے گاڑیاں؟

سعودی شاہی خاندان کے شہزادے الولید بن طلال نے بظاہر ایک ٹویٹ میں یمن پر بمباری میں حصہ لینے والے جنگی طیاروں کے پائلٹوں کو انتہائی مہنگی بینٹلے گاڑیاں 150209145106_ben-talal_640x360_afpدینے کی پیشکش کی ہے۔

اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی اور ان پر بہت تنقید کی جا رہی ہے۔

رواں ہفتے کے آغاز میں سعودی عرب نے اعلان کیا تھا کہ یمن میں جاری اس کی فوجی مہم کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے۔

اس کے نتیجے میں خوشی کے طور پر شہزادے الولید بن طلال نے، جن کا شمار سعودی عرب کی امیر ترین شخصیات میں ہوتا ہے، اپنے 30 لاکھ فولورز کو ٹویٹ کیا کہ ’اس آپریشن میں ان کے کردار کو سراہنے کے لیے سعودی پائلٹوں کو 100 بینٹلے گاڑیوں کی پیشکش میرے لیے اعزاز کی بات ہو گی۔‘

اس پیشکش کے ردعمل میں سوشل میڈیا پر رائے منقسم نظر آئی۔ 28 ہزار سے زائد افراد نے ان کے اس پیغام کو شیئر کیا اور پانچ نے اسے لائیک کیا۔

ان کی اس ’فراخدلی‘ کے تعریف کی گئی اور کئی سعودی شہریوں کا کہنا تھا کہ پائلٹ واقعی ان گاڑیوں کے حقدار ہیں۔

لیکن سعودی عرب سے باہر خاص کر یمن میں ان کی یہ پیشکش لوگوں کو ناگوار گزری اور ایک یمنی شہری نے ٹویٹ کیا کہ ’یمن پر بمباری کرنے والے سو پائلٹوں کے لیے سو بینٹلے گاڑیاں لیکن جو ہسپتال انھوں نے تباہ کر دیے ان کے لیے ایک ایمبولینس بھی نہیں۔‘

ایک دوسرے یمنی شہری اس سے پہلے سعودی بمباری سے تباہ ہونے والے اپنے گھر کی تصاویر ٹویٹ کر چکے تھے اور اس پر ان کا ردعمل تھا کہ ’شہزادے الولید نے سعودی پائلٹوں کو سو بینٹلے گاڑیاں دیں۔ میرا اپارٹمنٹ تباہ ہوگیا۔ لیکن پھر بھی مجھے یقین ہے کہ میرا حوصلہ ان تمام پائلٹوں سے بلند ہے۔‘

بعض لوگوں نے دنیا کے غریب ترین ممالک میں سے ایک یمن کے عوام اور سعودی عرب جیسے امیر ملک میں رہنے والوں کے درمیان عدم مساوات کی جانب توجہ دلائی۔

اردن کے ایک شہری نے ٹویٹ کیا کہ ’تو کیا اس سب کا مقصد یہ تھا کہ سو یا دو سو جانیں ایک بینٹلے کے لیے، کیا انسانی زندگی اتنی ہی سستی ہے؟‘

Advertisements

سعودی عرب میں ’خاکروب بچی‘ کی تلاش

ایک خوش لباس سعودی شخص نے ایک مہاجر لڑکی کی تصویر سوشل میڈیا پر تضحیک کے طور پر پوسٹ کی لیکن لوگ اس لڑکی کی مدد کے لیے اس کی تلاش مصروف ہیں۔

اس شخص نے کوڑا چننے والی اس افریقی مہاجر بچی کے ساتھ اپنے موبائل سیٹ پر سیلفی لے لی جو جدہ کے ایک کوڑے دان سے کچھ چن رہی تھی۔

تصویر میں وہ 10 سال کی ایک لڑکی نظر آتی ہیں اور انھوں نے الاتحاد فٹبال ٹیم کی ٹی شرٹ پہن رکھی تھی جس پر سعودی شخص طنز کرنے سے باز نہ رہ سکا۔

یہ تصویر سنیپ چیٹ پر پہلے پہل ڈالی گئی تھی

اس نے تصویر کے ساتھ لکھا: ’دیکھیں الاتحاد کہاں پہنچ چکا ہے، کوڑے دان میں۔‘

ان کی جانب سے یہ تصویر سنیپ چیٹ پر ڈالی گئی تھی جسے بعد میں ہٹا لیا گیا تاہم یہ تصویر دیگر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر گردش کرتی رہی۔

بہت سے لوگوں کو یہ تصویر مذاحیہ نہ لگی اور آن لائن پر زیادہ تر لوگوں نے اس پر غم و غصے کا اظہار کیا۔

لوگوں نے اسے بھدے مذاق سے تعبیر کیا یہاں تک کہ سعودی شخص کو نسلی امتیاز کا مرتکب بھی قرار دیا جس نے اس اقدام کے لیے ایک غریب بچی کا سہارا لیا۔

ایک شخص نے ٹوئیٹر پر لکھا ’یہ ایک تشہیری بازی گری ہے۔ بیچاری لڑکی کو تو یہ بھی نہیں معلوم ہوگا کہ کیا ہو رہا ہے۔‘

اس واقعے نے سعودی باشندوں اور مہاجروں کے درمیان کی کشیدگی کو بھی پیش کیا ہے۔ باہر سے آنے والے یہاں مشکل کام کرتے ہیں اور مشکل حالات میں گزربسر کرتے ہیں۔

پہلے اس ملک میں دوسرے ملکوں سے کام کرنے کے لیے آنے والوں کے حقوق کے بارے میں کوئی ہمدردی نہیں تھیں اور یہ ضرور ہے کہ اس واقعے پر بہت سے تبصرے دوسرے ملکوں سے ہوئے ہیں تاہم اس بار بہت سے سعودیوں نے بھی اس شخص کی مذمت کی ہے۔

بعد میں اس شخص نے اسے تحفے بھی دیے جبکہ بہت سے لوگ اس لڑکی کی امداد کو سامنے آئے ہیں

ایک سعودی خاتون نے ٹوئیٹ کیا: ’یہ شخص ہماری عزت نہیں کرتا۔‘

بعد میں اس شخص نے یوٹیوب پر ای ویڈیو پوسٹ میں معافی مانگی اور وہ اس بجی کے پاس پھر سے گیا اور اسے تحفے دیتے ہوئے اس کے ساتھ اپنی ایک تصویر پوسٹ کی ہے۔ جبکہ دوسرے اس کی مدد کے لیے آگے آئے ہیں۔ چونکہ انھیں اس بچی کا پتہ نہیں معلوم اس لیے ’جدہ کی بچی کی تلاش‘ کے ہیش ٹیگ سے تقریبا دو لاکھ ٹوئیٹ کیے گئے ہیں۔

ایک الاتحاد کے امیر مداح نے اس لڑکی کو 16 ہزار امریکی ڈالر دینے کا عہد کیا ہے تو سعودی ریسنگ کار کے ڈرائیور یزید الرجحی نے ایک لاکھ امریکی ڈالر کا وعدہ کیا ہے۔

لندن میں مقیم ایک سعودی شوسل میڈیا مبصر فورغن المدحی کا کہنا ہے کہ ’سعودی سماج بہت فیاض ہے۔۔۔ لیکن یہاں یہ دیکھنا ہے کہ لوگوں نے جو وعدہ کیا ہے اسے پورا بھی کرتے ہیں۔‘

آخری اطلاعات تک ابھی تک لڑکی کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔

ترکی کی گوگل کو دھمکی

150406144044_turkey_twitter_yuotube_640x360_epa_nocredit

ترکی نے گوگل کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے بندوق کے زور پر یرغمال بنائے جانے والے پراسیکیوٹر کی تصاویر والے لنکس اپنے سرچ انجن سے نہ ہٹائے تو وہ اس پر پابندی لگا دے گا۔

یہ تصاویر گذشتہ ہفتے استنبول کی ایک عدالت کے محاصرے کے دوران لی گئی تھیں جس میں دو بندوق برداروں نے ایک پراسیکیوٹر کو یرغمال بنا لیا تھا۔ پراسیکیوٹر کو بچانے کی ناکام کوشش میں دو پولیس اہلکار بھی حملہ آوروں کے ساتھ ہی ہلاک ہو گئے تھے۔

جب گوگل نے یہ تصاویر دکھانے والی سائٹوں کے لنک ہٹا دیے تو گوگل پر پابندی بھی اٹھا لی گئی۔

ترکی نے تھوڑی دیر کے لیے کئی سوشل نیٹ ورک سائٹوں کو بھی بند کر دیا تھا جہاں یہ تصاویر گردش کر رہی تھیں۔

چھ اپریل کو ترکی کی ایک عدالت نے نیٹ سروس مہیا کرنے والی کمپنیوں کو کہا کہ وہ یوٹیوب، ٹوئٹر، فیس بک اور 160 سے زیادہ سائٹوں کی انٹرنیٹ تک رسائی منقطع کر دیں جو یہ متنازع تصاویر دکھا رہی تھیں۔ ان متنازع تصاویر میں دکھایا گیا تھا کہ ماسک پہنے ہوئے ایک شخص پراسیکیوٹر محمد سلیم کراز کے سر پر بندوق رکھے کھڑا ہے۔

بظاہر کراز کو اس وجہ سے یرغمال بنایا گیا تھا کہ وہ 2013 میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے دوران ایک بچے کی ہلاکت کی تحقیقات کر رہے تھے۔

جن ماسک پہنے ہوئے افراد نے انھیں یرغمال بنایا ان کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ وہ بائیں بازو کی ڈی ایچ کے پی سی پارٹی سے تعلق رکھتے تھے۔ جب پولیس نے پراسیکیوٹر کراز کو بچانے کی کوشش کی تو وہ بھی دونوں بندوق برداروں کے ساتھ ہلاک ہو گئے۔

پیر کو تین بڑی سوشل میڈیا سائٹوں نے تصاویر کی کاپیاں اپنے اپنے نیٹ ورک سے اٹھا لیں تو ان تک رسائی کھول دی گئی۔

اس کے بعد عدالت نے ایک اور حکم میں گوگل کو خبردار کیا کہ وہ اگر اپنے سرچ انڈیکس سے متنازع تصاویر کے لنکس نہیں اتارتا تو اس پر بھی پابندی لگا دی جائے گی۔

گوگل نے ابھی تک باقاعدہ طور پر پابندی اور اس طرح کی کسی کارروائی سے بچنے کے لیے کیے جانے والے اقدام پر بات نہیں کی ہے۔

قانونی کارروائی سے پہلے یہ تصاویر بہت تیزی سے آن لائن اور کچھ اخبارات میں محاصرے پر لکھے ہوئے مضامین کے ساتھ دکھائی جا رہی تھیں۔ ترکی کی حکومت نے کہا تھا کہ ان تصاویر کو پرنٹ اور شیئر کرنا دہشت گرد تنظیم کے لیے پروپیگنڈا سمجھا جائے گا۔

ڈی ایچ کے پی سی کو ترکی، یورپی اتحاد اور امریکہ دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں۔