جرمانہ نہ دینے پر بدنامی سٹیشن پر

150122144621_china_website_640x360__nocredit

چین کی ایک عدالت نے ان لوگوں کے نام اور تصاویر ایک اہم ریلوے سٹیشن کے سامنے ایک بڑی سکرین پر لگانا شروع کر دیے ہیں جو جرمانے کی رقم ادا نہیں کرتے۔

جنوبی صوبے ہنان کے شہر چینگشا میں یہ اقدام ان لوگوں کے خلاف کیا گیا جنھوں نے عدالت کے جرمانہ دینے کے حکم کی خلاف ورزی کی تھی۔

شیاؤشیانگ مارننگ پوسٹ کی ویب سائٹ کے مطابق سٹیشن کے باہر ایک بڑی سکرین پر ان افراد کی تصاویر نظر آتی ہیں اور ہر آنے جانے والا مسافر انھیں دیکھتا ہے۔ ان تصاویر کے ساتھ ان کے نام، شناخت اور شناختی کارڈ نمبر اور جتنی رقم انھوں نے ادا کرنی ہے درج ہے۔ زیادہ تر لوگوں نے تو 10,000 یوان یعنی 1600 امریکی ڈالر دینے ہیں لیکن سب سے زیادہ واجب ادا رقم 28 ملین یوان (4.5 ملین ڈالر) ہے۔

اگرچہ کچھ ماہرین نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے لیکن مقامی وکیل ڈینگ لونگ کہتے ہیں کہ عدالت کے پاس اس بات کا اختیار ہے کہ وہ جس طرح چاہے ان افراد کے ناموں کی تشہیر کرے جنھوں نے عدالت کے حکم کی نافرمانی کی ہے۔

چینی میڈیا نے ایسے بہت سے لوگوں کے انٹرویو کیے ہیں جنھوں نے اس اقدام کو سراہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ لوگوں کو مستقبل میں ایسا کرنے سے باز رکھے گا اور ان کی حوصلہ افزائی کرے گا کہ وہ رقم ادا کریں۔

ایک شخص نے شیاؤشیانگ مارننگ پوسٹ کو بتایا کہ ’اس سے ان لوگوں تک پیغام پہنچے گا کہ عدالت اپنے کام کے متعلق سنجیدہ ہے۔‘

سٹیشن کے باہر قطار میں کھڑے ایک شخص نے چائنا نیوز ایجنسی کو کہا کہ عدالت نے انھیں ظاہر کرنے کا ایک مشکل فیصلہ کیا ہے۔ ’یہ ایک اچھا کام ہے۔‘

Advertisements

چارلی ایبڈو کا پیغمبرِ اسلام کے خاکے والا شمارہ شائع

150113002702_charlie_hebdo_624x351_ap_nocredit

پیرس میں گذشتہ ہفتے مسلح افراد کے حملے کا نشانہ بننے والے فرانسیسی رسالے چارلی ایبڈو نے اپنا وہ نیا شمارہ فروخت کے لیے پیش کر دیا ہے جس کے سرورق پر پیغمبرِ اسلام کا خاکہ شائع کیا گیا ہے۔

یہ جریدے کے دفتر پر ہونے والے حملے میں 12 افراد کی ہلاکت کے بعد شائع ہونے والا پہلا شمارہ ہے۔

اطلاعات کے مطابق چارلی ایبڈو کے دفتر پر حملے کی وجہ ماضی میں پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کی اشاعت ہی بنی تھی۔

عموماً اس طنزیہ میگزین کے ایک شمارے کی زیادہ سے زیادہ 60 ہزار کاپیاں شائع ہوتی ہیں مگر رسالے کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس بار پوری دنیا میں اس کی مانگمیں اضافے کی وجہ سے تازہ شمارے کی 30 لاکھ کاپیاں شائع کی گئی ہیں۔

تازہ شمارے کے سرورق پر پیغمبرِ اسلام کے خاکے کے علاوہ رسالے کے اندر میں بڑی تعداد میں ایسے خاکے شامل کیے گئے ہیں جن میں ’مسلم انتہاپسندوں‘ کو دکھایا گیا ہے۔

یہ رسالہ انگریزی اور عربی سمیت چھ زبانوں میں دستیاب ہے اور اس کے مدیر اعلیٰ جیرارڈ بیارڈ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم خوش ہیں کہ ہم نے یہ کر دکھایا اور ہم ایسا کرنے کے قابل ہوئے۔ یہ مشکل کام تھا۔ سرورق کی تیاری پیچیدہ کام تھا کیونکہ اسے کچھ نیا پیغام دینا تھا اور وہ بھی اس سب سے متعلق جس کا ہمیں سامنا رہا ہے۔‘

اس رسالے کی اشاعت سے قبل ہی اس کا متنازع سرورق فرانسیسی ذرائع ابلاغ میں گردش کر رہا تھا۔

فرانس کے علاوہ امریکہ میں واشنگٹن پوسٹ اور برطانیہ میں گارڈین کے علاوہ جرمنی اور اٹلی کے اخبارات میں بھی اس سرورق کا عکس شائع ہوا ہے۔

یورپ اور امریکہ کے برعکس مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں اخبارات نے یہ خاکہ شائع نہیں کیا ہے۔