جی ایچ کیو حملہ کیس میں پھانسی کی سزا پانے والے عقیل عرف ڈاکٹر عثمان کو سزائے موت دینے کی تیاریاں مکمل.

راولپنڈی : جی ایچ کیو حملہ کیس میں پھانسی کی سزا پانے والے عقیل عرف ڈاکٹر عثمان کو سزائے موت دینے کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔

ڈان نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ آرمی چیف نے ڈاکٹر عثمان کے ڈیتھ وارنٹ پر گزشتہ رات دستخط کردیے تھے۔

ڈاکٹر عثمان کے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط ہونے کے بعد ان کو جیل کے ڈیتھ سیل میں منتقل کر دیا گیا تھا۔

عقیل عرف ڈاکٹر عثمان سے لواحقین کی آخری ملاقات کروا دی گئی ہے۔

ڈاکٹر عثمان نے اپنی وصیت بھی بھائی کے سپرد کردی ہے۔

جیل کے اطراف میں انتہائی سخت سیکورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عثمان کو آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں پھانسی کی سزا دی جا سکتی ہے۔

پھانسی کے بعد ڈاکٹر عثمان کی میت ان کے بھائی وصول کریں گے۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر عثمان پاک فوج میں میڈیکل کور کے اہلکار تھے انہوں نے آرمی چھوڑ کر عسکریت پسندوں میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔

ڈاکٹر عثمان پر الزام ہے کہ انہوں نے 10 اکتوبر 2009 کو جی ایچ کیو )جنرل ہیڈ کوارٹرز( پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی اور قیادت کی تھی۔

اس حملے میں 10 عسکریت پسندوں نے بھاری ہتھیاروں کے ذریعے حملہ کیا تھا جس سے 11 فوجی اہلکار مارے گئے تھے۔

واضح رہے کہ ملک بھر کی جیلوں میں دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت پانے والے دیگر مجرموں کو بھی پھانسی دینے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

ملک بھر میں حملوں کے خطرے کے باعث جیلوں کی سیکورٹی انتہائی سخت کردی گئی۔

’پہلے مرحلے میں 17 دہشت گردوں کو پھانسی دینے کا فیصلہ‘

140904195248_hanging_rope_640x360_bbc_nocredit

پاکستان میں حکام نے وزیرِ اعظم کی جانب سے دہشت گروں کی سزائے موت پر عملدرآمد کی اجازت دیے جانے کے بعد ملک کی مختلف جیلوں میں قید کم از کم 17 مجرموں کی فہرست تیار کی ہے جنھیں پہلے مرحلے میں پھانسی دی جائے گی۔

وزیرِ اعظم نواز شریف نےسزائے موت پر عملدرآمد کی بحالی کا اعلان پشاور میں طالبان شدت پسندوں کے حملے میں 132 بچوں سمیت 141 افراد کی ہلاکتکے بعد کیا تھا۔

وفاقی وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ ان مجرموں میں راولپنڈی میں فوج کے صدر دفتر اور کامرہ میں فضائیہ کے اڈے سمیت اہم فوجی اور سویلین تنصیبات پر حملہ کرنے والے شدت پسند بھی شامل ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان 17 افراد میں سے دس پنجاب، چھ سندھ اور ایک خیبر پختونخوا کی جیل میں قید ہے اور پنجاب میں زیادہ تر یہ قیدی فیصل آباد اور بہاولپور کی جیلوں میں ہیں۔

اہلکار نے بتایا کہ ان کے ناموں کا انتخاب وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار اور وزیرِ اعظم نواز شریف کی ملاقات میں کیا گیا تھا جس کے بعد یہ فہرست صدرِ مملکت کو بھیجی گئی۔

وزارتِ داخلہ کے اہلکار کا یہ بھی کہنا تھا کہ صدر مملکت کی جانب سے ان تمام مجرموں کی رحم کی اپیلیں مسترد کر دی گئی ہیں۔

سزاؤں پر عملدرآمد کے حوالے سے اہلکار کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ضروری دفتری کارروائی کا آغاز ہو چکا ہے اور جلد از جلد سزائے موت کے احکامات پر عمل ممکن بنایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان میں ایک اہم نام عقیل عرف ڈاکٹر عثمان نامی دہشت گرد کا ہے جو اس وقت فیصل آباد کی جیل میں قید ہے۔

عقیل عرف ڈاکٹر عثمان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا بنیادی تعلق کالعدم لشکر جھنگوی سے ہے اور انھیں اکتوبر سنہ 2009 میں جی ایچ کیو پر ہونے والے حملے کا منصوبہ ساز سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان میں مسلم لیگ نواز کی حکومت نے برسرِاقتدار آنے کے بعد پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔

تاہم اگست 2013 میں تحریک طالبان پاکستان نے حکومت پنجاب اور حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کو دھمکی دی تھی کہ اگر عقیل سمیت ان کے چار ساتھیوں کو پھانسی دی گئی تو پنجاب حکومت کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کر دیا جائے گا۔

اس دھمکی کے بعد حکومت کی جانب سے اگرچہ ملک میں سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کا حکم تو جاری نہیں کیا گیا تاہم نواز شریف کے اس دورِ حکومت میں تاحال کسی بھی مجرم کو پھانسی نہیں دی گئی ہے۔

اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے ملک میں پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روک دیا تھا اور 2008 سے 2013 کے دوران صرف دو افراد کو پھانسی دی گئی تھی اور ان دونوں کو فوجی عدالت سے پھانسی کی سزا ہوئی تھی۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے پاس موجود اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں اس وقت ساڑھے آٹھ ہزار کے قریب ایسے قیدی ہیں جنھیں موت کی سزا سنائی جا چکی ہے اور ان کی تمام اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں۔

تاہم ایک غیر سرکاری تنظیم جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی جانب سے حال ہی میں جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان مجرموں میں سے 10 سے 12 فیصد قیدی ہی ایسے ہیں جنھیں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت سزائے موت سنائی گئی ہے۔

بی بی سی اردو سے گفتگو میں ادارے کی سربراہ سارہ بلال نے بتایا تھا کہ سنہ 2012 تک کے اعدادوشمار کے مطابق ’پنجاب میں 641، سندھ میں 131، خیبر پختونخوا میں 20 جبکہ بلوچستان میں دہشت گردی ایکٹ کے تحت موت کی سزا پانے والوں کی تعداد 26 ہے۔‘

PML-N wants to turn Imran into a leader: Shah

804082-KhursheedShahAFP-1418118282-848-640x480

ISLAMABAD: Leader of the Opposition in the National Assembly Khursheed Shah on Tuesday said it appears that the ruling Pakistan Muslim League-Nawaz government wishes to make Pakistan Tehreek-e-Insaf chairman Imran Khan a leader.

Criticising the government’s handling of the PTI’s call for a lockdown in Faisalabad, which led to the death of a PTI activist in violent clashes on Monday, Shah said such tactics were turning Imran into a hero in the eyes of the public.

“When workers of parties clash it creates a civil war-like situation which is very dangerous.”

“Just as PML-N had shut offices in Gujranwala, they should have done the same in Faisalabad to avoid conflict,” he added.

“The government makes mistakes themselves and then blames the establishment for creating problems,” Shah claimed, urging Prime Minister Nawaz Sharif to “open his eyes.”

“Nawaz Sharif’s own team has created problems for him,” the Pakistan Peoples Party stalwart alleged, while speaking to media representatives in his chamber.

Further, Shah said the government and Imran should realise that if the situation worsens they along with the state will suffer.

Shah reiterated that dialogue between the government and the protesting PTI was the only way to end the current political impasse.

“[Finance Minister] Ishaq Dar called me and informed me about the government’s willingness to negotiate,” he said.

Further, regarding the PTI’s call for a shutdown in Karachi on December 12, Shah said, “They can protest peacefully but we will not allow anyone to create chaos and violence.”