وزیراعظم کی آئی ڈی پی کیمپوں کے مشترکہ دورے کی دعوت،عمران خان نے معذرت کرلی

 وزیراعظم نواز شریف جمعے کو خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے افراد کے کیمپوں کا دورہ کریں گے۔ اس سلسلے میں انہوں نے تحریک انصاف کے چیئرمین  کو بنوں کے آئی ڈی پی کیمپوں کا مشترکہ دورہ کرنے اور آپریشن زدہ علاقوں میں جانے کی دعوت دی۔ وزیر اعظم نے عمران خان سے کہا کہ اس دورے پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی ان کے ہمراہ ہوں گے، اس موقع پر اگر  ہم مل کرجائیں گے تو قومی مفاہمت کا تاثر پیدا ہو گا اور فوج کا مورال بڑھے گا۔ عمران خان نے وزیر اعظم کی دعوت قبول کرنے سے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا پہلے سے بہاول پور کا جلسہ طے ہے اس لئے وہ ان کے ہمراہ نہیں آسکتے۔

واضح رہے کہ چند ماہ قبل جب تھر میں خشک سالی پر جب وزیر اعظم نے مٹھی اور دیگر متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا تھا تو اس وقت پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلالول بھٹو زرداری بھی ان کے ہمراہ تھے۔

Advertisements

Sindh Assembly New Building

 

Image

 

The Sindh Assembly session held in the newly-constructed building today (Tuesday), Dunya news reported. With an estimated cost of Rs 4.65 billion, the new building is a state-of-the-art and hi-tech project. Speaker Sindh Assembly Agha Siraj Durrani and Sindh Information Minister Sharjeel Memon visited the building on completion of the main hall and reviewed all arrangements. Special arrangements have been made for Governor of Sindh, diplomats and other guests. It is a four-storey building with basement and ground floor. The seating capacity of the House is 300 which would be later enhanced to 500 seats. There are large galleries for visitors and media. It has chambers of the Speaker, Leader of the House and the Opposition Leader besides offices for twenty ministers as well as spacious and beautiful auditorium and cafeteria, and various other standard facilities for the parliamentarians and the visitors. For its decoration, carpets and other goods have been imported from Turkey and other countries. The construction of new Sindh Assembly building had started in 2010 and the project is expected to be completed by end of this year.

منفرد سرجن جو سیکڑوں میل دور بیٹھ کر آپریشن کرتا ہے

Image

 وہ کوئی جادوگر نہیں ہے بلکہ ایک ماہر سرجن ہے جسے جدید ترین ٹیکنالوجی سے بھی گہرا شغف ہے۔ کینیڈا کے شہر ہملٹن میں واقع سینٹ جوزف اسپتال کے ایک خصوصی کمرے میں بیٹھ کر وہ روبوٹ کی مدد سے سیکڑوں میل دور واقع کسی اور اسپتال میں مریض کا آپریشن کررہا ہوتا ہے۔ وہ ایک گیمنگ کنسول جیسی ڈیوائس کی مدد سے دوسرے اسپتال کے آپریشن تھیئٹر میں موجود’ روبوٹ سرجن ‘ کو کنٹرول کرتے ہوئے سرجری انجام دیتاہے۔اب تک وہ اس طریقے سے بیس آپریشن کرچکا ہے جن میں بڑی آنت اور ہرنیے کے آپریشن بھی شامل تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیلی سرجری (طویل فاصلے سے کی جانے والی سرجری)  کی تیکنیک اتنی بہتر ہوچکی ہے کہ اسے اب زیادہ وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ مریض اپنے ہی شہر میں رہتے ہوئے دنیا کے بہترین سرجنوں سے آپریشن کرواسکتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ تیکنیک عام ہوسکتی ہے؟

ٹیلی سرجری کی تیکنیک کو اہمیت اس وقت حاصل ہوئی تھی جب یہ مسئلہ سامنے آیا تھا کہ خلا میں انسانوں کی آمدورفت عام ہوجانے کے بعد بوقت ضرورت ان کو علاج معالجے اور آپریشن کی سہولیات کیسے دست یاب ہوں گی۔ 1970ء کی دہائی میں امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے تحقیق کاروں کو ’ روبوٹ سرجن ‘ کی تیاری پرکام شروع کرنے کی ہدایت کی تھی جو ہنگامی صورت حال میں خلا میں خلابازوں کا آپریشن کرسکیں۔ اس کے بعد سے ناسا اور امریکی فوج ’ روبوٹ سرجنوں‘ کی تیاری پر کام کرتی رہی ہے جو ٹیلی سرجری میں معاون ثابت ہوسکیں۔

2006ء میں انواری نے پہلی بار ایک روبوٹ کی مدد سے طویل فاصلے پر موجود مریض کے زخموں پرٹانکے لگائے تھے، اور پھر ٹیلی سرجری کی ٹیکنالوجی میں بہتری کے ساتھ ساتھ وہ ٹانکوں سے بہ تدریج مکمل آپریشن تک آگیا۔

انواری کے ’ سرجن روبوٹ‘کا نام زیوس ہے۔ سیکڑوں میل دوربیٹھ کر روبوٹ کے ذریعے آپریشن کرنے کے بارے میں ڈاکٹر انواری کہتا ہے،’’ یہ ایسے ہی ہے جیسے میں خود آپریشن تھیئٹر میںموجود ہوں۔ میرے دونوں ہاتھ اسی انداز سے روبوٹ کوکنٹرول کرنے والے کنسول پر ہوتے ہیں جیسے کہ آپریشن تھیئٹر میں، میں نے آلات جراحی پکڑے ہوئے ہوں۔‘‘ وہ روبوٹ میں نصب کیمرے کے ذریعے اپنے سامنے رکھے ہوئے مانیٹر پر مریض کو دیکھتے ہوئے آپریشن شروع کردیتا ہے۔ بوقت ضرورت آپریشن تھیئٹر میں موجود نرسوں اور جونیئر ڈاکٹر کو ہدایات بھی دے سکتا ہے۔

ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ روبوٹ کے ذریعے سرجری اور خود اپنے ہاتھوں سے اس کے سرجری کرنے میںکوئی فرق نہیں ہے۔ لینڈلائن کے بہتر نیٹ ورک اور طاقت ور انٹرنیٹ کی وجہ سے آج تک دوران آپریشن کوئی خلل واقع نہیں ہوا۔ تاہم اس کا خطرہ بہرحال موجود رہتا ہے۔ دوران آپریشن رابطے میں خلل واقع ہونے کے سنگین نتائج بھی برآمد ہوسکتے ہیںکیوں کہ روبوٹ کو طیارے کی طرح ’آٹوپائلٹ موڈ‘ پر سیٹ نہیں کیا جاسکتا کہ وہ خود ہی آپریشن مکمل کرلے۔

لندن: بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے کہا ہے کہ بھارت میں خواتین کے ٹینس میں نہ آنے کی ایک وجہ رنگت سیاہ ہونے کا ڈربھی ہے، برصغیر میں گورے رنگ کو بہتر سمجھا جاتا ہے۔