’بتائیں کیوں نہ آپ کی نشریات بند کر دی جائیں‘، پیمرا کا جیو کو نوٹس

پاکستان الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی نے وزارت دفاع کی جانب سے جیو نیوز کی نشریات معطل کرنے کی درخواست پر چینل کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے چھ مئی تک جواب طلب کر لیا ہے۔جیو نیوز کے پروگرام ’آج کامران خان کے ساتھ‘ میں بتایا گیا ہے کہ پیمرا نے وزارتِ دفاع کی درخواست پر چینل سے وضاحت طلب کی ہے کہ وہ بتائیں کہ کیوں نہ ان کی نشریات کو بند کر دیا جائے۔

واضح رہے کہ منگل کو وزارت دفاع کی طرف سے پیمرا کو جیو نیوز کے خلاف درخواست میں خبروں اور حالات حاضرہ کے اس نجی ٹی چینل کی نشریات کو فوری طور پر معطل کرنے اور حقائق کا جائزہ لینے کے بعد اس کا لائسنس منسوخ کرنے کی استدعا کی تھی۔

اس درخواست پر پاکستان الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی نے بدھ کو غور کرنے کے بعد معاملہ پیمرا بورڈ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

وزارت دفاع کی جانب سے درخواست موصول ہونے کے بعد پیمرا حکام نے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے بدھ کو کئی گھنٹوں درخواست پر غور کے بعد معاملہ پیمرا بورڈ کے سامنے پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔ پیمرا کی تین رکنی کمیٹی ممبران پرویز راٹھور، اسرار عباسی اور اسماعیل شاہ پر مشتمل ہے۔

پیمرا کے اہلکار نے بتایا کہ وزارت دفاع کی جانب سے لگائے گئے الزامات سنگین ہیں تاہم کسی بھی کارروائی سے قبل متعلقہ چینل کو وضاحت کا موقع فراہم کیا جائے گا۔

اس سے قبل منگل کو وزارت دفاع کی ترجمان ناریتہ فرحان نے بتایا تھا کہ وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے پیمرا آرڈیننس 2002 سیکشن 33 اور 36 کے تحت پیمرا حکام کو درخواست دی گئی ہے کہ جیو کی ادارتی ٹیم اور انتظامیہ کے خلاف مقدمے کا آغاز کیا جائے۔

وزارت دفاع کی جانب سے لگائے گئے الزامات سنگین ہیں تاہم کسی بھی کارروائی سے قبل متعلقہ چینل کو وضاحت کا موقع فراہم کیا جائے گا۔

پیمرا اہلکار

وزارت دفاع نے موقف اختیار کیا ہے کہ ریاست کے ایک ادارے کے خلاف توہین آمیز مواد چلایا گیا ہے جو کہ نہیں چلایا جانا چاہیے تھا۔

انھوں نے بتایا کہ وزارت دفاع نے پیمرا حکام کو بھجوائی گئی درخواست میں یہ بھی کہا ہے کہ جیو کے خلاف ثبوت اور حقائق کو دیکھنے کے بعد فوری طور پر جیو نیوز کا لائسنس منسوخ کیا جائے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل وزارتِ داخلہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ جیو ٹی وی کے سینیئر اینکر پرسن حامد میر پر حملے کو جواز بنا کر بغیر ثبوت کے پاکستان کے قومی اداروں پر حملے کیے جانا اور انھیں مورد الزام ٹھہرانا تشویش ناک ہے۔

آئی ایس آئی کا نام لیے جانے کے چند ہی گھنٹوں بعد فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے اس بارے میں ایک پریس ریلیز بھی جاری کی گئی، لیکن حامد میر پر حملے کے بعد پاکستانی میڈیا کے منقسم ہو جانے کے بعد چند ٹی وی چینلوں پر آئی ایس پی آر کے ترجمان، جنرل آصف باجوہ کے آڈیو بیانات بھی نشر ہوئے۔

سنیچر کو صحافی اور اینکر پرسن حامد میر پر حملے کے کچھ ہی دیر بعد ان کے بھائی عامر میر نے کہا تھا کہ ’حامد میر نے بتایا تھا کہ اگر ان پر حملہ ہوا تو اس کے ذمہ دار پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ ہوں گے۔‘

اتوار کو پاکستان کے نجی ٹی وی چینل جیو کے صدر عمران اسلم نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تھا اس بات کا فیصلہ حامد میر خود کریں گے کہ آیا آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ کا نام ایف آئی آر میں لکھا جائے گا یا نہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’نہ صرف حامد میر کے بھائی عامر میر نے آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالاسلام پر حملے کا الزام لگایا ہے بلکہ حامد میر خود کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ خفیہ ایجینسیاں ان کے موقف کی وجہ سے شاید ان سے بدلہ لیں۔‘

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s