شارجہ میں دل جیتنے والی جیت

شارجہ میں دل جیتنے والی جیت

شارجہ سٹیڈیم کے اپنائیت والے ماحول میں پاکستانی ٹیم نے پہلے شائقین کے دل جیتے اور پھر میچ۔
سری لنکن ٹیم نے پہلے دو میچوں میں زبردست فائٹنگ سپرٹ دکھائی تھی لیکن اس بار اس نے آسانی سے گھٹنے ٹیک دیے۔

سری لنکن بولنگ پر پہلے ہی اوس پڑگئی حالانکہ اینجیلو میتھیوز نے ٹاس جیت کر ایک بار پھر اپنے بولرز کو بعد میں بولنگ کرنے سے بچایا تھا۔
محمد حفیظ ڈیل اسٹین کے دیے گئے زخموں سے صحت یاب ہونے کے بعد اب حریف بولرز کو گھاؤ لگانے میں مصروف ہیں۔
سیریز میں دوسری اس سال چوتھی اور مجموعی طور پر آٹھویں سنچری کو ایک سو چالیس ناٹ آؤٹ کےساتھ کریئر بیسٹ سکور بناتے ہوئے انہوں نے پاکستان کا سکور تین سو چھبیس تک پہنچانے کا فریضہ خوب نبھایا تاہم انہیں اپنی اس سنچری پر لستھ مالنگا کا شکریہ ضرور ادا کرنا چاہیے جنہوں نے چھبیس کے انفرادی اسکور پر ان کا آسان کیچ گرادیا تھا۔
شرجیل خان کی وکٹ جلد گرنے کے بعد سری لنکا کو وکٹ کا انتظار ہی رہا لیکن جب وکٹیں ملنے لگیں تو رنز کے بہاؤ میں اس کی نیّا ڈوب چکی تھی۔
محمد حفیظ اور احمد شہزاد کی شراکت میں ایک سو ساٹھ رنز بنے۔احمد شہزاد اکیاسی کے سکور پر مالنگا کے ہاتھوں رن آؤٹ ہوکر سیریز میں مسلسل دوسری سنچری سکور کرنے سے رہ گئے۔
صہیب مقصود نے کریز پر مختصرقیام میں دو چھکوں اور ایک چوکوں سے شائقین کو تالیاں بجانے کا موقع ضرور فراہم کیا لیکن انہیں اور شرجیل خان کو اپنی تکنیک اور اعتماد دونوں میں پختگی لانے کے لیے رہنمائی کی ضرورت ہے جو شاید مزید چند ہفتوں کے مہمان کوچ واٹمور کی طرف سے تو نہ مل سکے لیکن ایسا نہ ہو کہ ان دونوں کی صلاحیتیں ناتجربہ کاری کی نذر ہوجائیں۔

محمد حفیظ اور احمد شہزاد کی شراکت میں ایک سو ساٹھ رنز بنے
مصباح الحق سنتیسویں اوور میں جب بیٹنگ کے لیے آئے تھے تو پاکستان کا سکور تین وکٹوں پر 200 تھا اور جب وہ آؤٹ ہوئے تو 275 رنز بن چکے تھے جن میں سے مصباح کا حصہ ایک سو ترپن کے زبردست اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ چالیس رنز تھا جس میں تین چوکے اور دو چھکے شامل تھے۔
آفریدی کا بلا نہ چلا لیکن عمراکمل نے آخری اوورز میں کولاسیکرا کو دو چھکوں اور ایک چوکے سے اچھا سبق سکھایا۔
حفیظ نے لستھ مالنگا کے آخری تین اوورز میں پانچ چوکوں اور ایک چھکے سے ان کی ہر تدبیر کو ناکام بنایا۔یہ اسی جارحیت کا اثر تھا کہ پاکستانی بیٹسمین آخری دس اوورز میں ایک سو پانچ رنز بنانے میں کامیاب ہوئے۔
گھٹنے کے آپریشن کے بعد نو ماہ کرکٹ سے دور رہنے کے بعد راتوں رات ٹیم میں شامل ہونے والے عمرگل کو اپنی موجودگی کا احساس دلانے میں دیر نہیں لگی اور انہوں نے اپنے دوسرے ہی اوور میں کوشل پریرا اور کرونا رتنے کی وکٹیں حاصل کرڈالیں۔
سری لنکا کی ابتدائی ٹوٹ پھوٹ کی مرمت عام طور پر کمارسنگاکارا اور تلکارتنے دلشن کیا کرتےہیں لیکن جنید خان نے سنگاکارا کو اس کا موقع نہیں دیا۔
دلشن نے کئی خوبصورت اسٹروکس کھیلے لیکن اس ’جارحیت‘ کا خاتمہ شاہد آفریدی نے کیا۔
چندی مل پرسنا اور کولاسیکرا حفیظ اور سعید اجمل کی اسپن کی زد میں آئے جبکہ تشارا پریرا کی اننگز کو آفریدی کا غیرمعمولی کیچ لے ڈوبا اور جب تین زبردست چھکے لگانے والے کپتان میتھیوز سعید اجمل کی گیند پر آؤٹ ہوئے تو آخری بیٹسمینوں مالنگا اور سینانائیکے کے لیے کچھ بھی نہیں بچا تھا۔
اور پھر عمرگل نے مالنگا کو بولڈ کر کے اپنی فٹنس اور جیت دونوں پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s