نواز شریف کے اثاثے ایک ارب سے زیادہ، عمران کے تین کروڑ

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے ارکانِ پارلیمان کے اثاثوں کی فہرست جاری کر دی ہے جس میں وزیراعظم نواز شریف کے اثاثوں کی کل مالیت ایک ارب بیاسی کروڑ چالیس لاکھ چوالیس ہزار دو سو تینتیس روپے ظاہر کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے اثاثوں کی کل مالیت دو کروڑ چھیانونے لاکھ پچھہتر ہزار دو سو اکانوے روپے بتائی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے بدھ کو ارکانِ پالیمان اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی جاری ہونے والی فہرست کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کے اثاثوں میں 1667 کنال زرعی زمین، مری میں دس کروڑ مالیت کی کوٹھی، شیئرز، گاڑیوں کی مالیت شامل ہے۔
اس کے علاوہ ان کے پاس نقد رقم 22 لاکھ 57 ہزار 820 روپے ہے جبکہ ان کی اہلیہ کے پاس 67 ہزار 555 روپے ہے۔
وزیراعظم نواز شریف کے اثاثوں میں لاہور کے نزدیک زرعی اراضی کا ذکر ہے۔ لیکن اس میں لاہور کے نزدیک جاتی عمرہ میں شریف خاندان کی رہائش گاہوں کا ذکر نہیں ہے۔
عمران خان کے اثاثوں کی فہرست میں اسلام آباد میں واقع 300 کنال 5 مرلہ کے مکان کو تحفہ ظاہر کیا ہے جبکہ زمان پارک لاہور میں 7 کنال 8 مرلے کا مکان خاندانی ہے اور اسی طرح سے میانوالی میں 10 مرلے کا مکان بھی خاندانی ہے۔
شہباز شریف کے بیرون ملک اثاثے
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ اور وزیراعظم نواز شریف کے چھوٹے بھائی شہباز شریف کی جانب سے ظاہر کیے جانے والے اثاثوں کے مطابق ان کی لندن میں اثاثوں کی مالیت 13 کروڑ 82 لاکھ 87 ہزار 102 روپے ہے
عمران خان کی جانب سے ظاہر کیے جانے والے اثاثوں کے مطابق شیخوپورہ میں 80 کنال اور بھکر میں 438 کنال اور 8 ایکٹر خاندانی اراضی، خانیوال میں 530 کنال 15 مرلے زرعی اراضی تحفہ ظاہر کی گئی ہے۔
عمران حان کے پاس اسلام آباد میں سفارت خانوں کے لیے مختص علاقے جی 5 میں 1585 مربع فٹ کا ایک فلیٹ ہے جس کی مالیت 11 لاکھ 75 ہزار ظاہر کی گئی ہے۔
عمران خان کے پاس 50 لاکھ مالیت کی ایک پراڈو گاڑی اور نقد رقم ایک کروڑ 36 لاکھ 18 ہزار 526 روپے ہے جبکہ دو بینکوں میں 3 لاکھ 53 ہزار 235 روپے اور ایک دوسری بینک میں 28 ہزار 530 روپے موجود ہیں۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کے اثاثوں کی کل مالیت ایک کروڑ 75 لاکھ 3 ہزار 696 روپے ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے 682 کنال زرعی زمین، پانچ ایک ایک ایک کنال کے پلاٹس، پولٹری شیڈز سمیت دیگر املاک کو آبائی ظاہر کرتے ہوئے نقد رقم 29 لاکھ 48 ہزار روپے جبکہ دو بینکوں میں بلترتیب دو لاکھ 45 ہزار 687 روپے اور 10 لاکھ 49 ہزار 934 روپے ظاہر کرنا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے 24 لاکھ روپے کی رقم ایک کمپنی کو ادا کرنی ہے۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ اور وزیراعظم نواز شریف کے چھوٹے بھائی شہباز شریف کی جانب سے ظاہر کیے جانے والے اثاثوں کے مطابق ان کی لندن میں اثاثوں کی مالیت 13 کروڑ 82 لاکھ 87 ہزار 102 روپے ہے۔

عمران خان کے پاس 50 لاکھ مالیت کی ایک پراڈو گاڑی اور نقد رقم ایک کروڑ 36 لاکھ 18 ہزار 526 روپے ہے
پاکستان میں ظاہر کیے جانے والے اثاثوں میں مری میں ایک کنال 9 مرلے کا مکان، مری میں ہی ایک مکان میں چوتھا حصہ شامل ہے اور اس کی کل مالیت ایک کروڑ 66 لاکھ بنتی ہے۔
زرعی اراضی میں 14 کنال 5 مرلہ میں ایک تہائی حصہ، 17 کنال 11 مرلے مکمل اپنی اراضی ہے اور اس کی مالیت 36 لاکھ بنتی ہے۔
جبکہ لاہور شہر میں 674 کنال اراضی والدہ کی جانب سے گفٹ کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف فیکٹروں میں شیئرز کی مالیت دو کروڑ سے زائد ہے۔ بینکوں میں 5 کروڑ 92 لاکھ 33 ہزار 934 ہے۔
ایک ٹویوٹا لینڈ کروزر گاڑی ہے جس کو تحفہ دیا گیا ہے۔ اس طرح کل اثاثے 25 کروڑ 93 لاکھ 97 ہزار 81 روپے ہے جن میں سے 11 کروڑ 71 لاکھ دو ہزار 204 روپے ادا کرنے ہیں۔شہباز شریف نے اپنی اہلیہ نصرت شبہاز کے اثاثوں کی فہرست بھی شامل کی ہے جس کی مالیت 27 کروڑ 34 لاکھ سے زائد بنتی ہے۔ شہباز شریف کی دوسری اہلیہ تہمینہ درانی کے اثاثوں کی مالیت 98 لاکھ سے زیادہ ہے۔

Advertisements

شارجہ میں دل جیتنے والی جیت

شارجہ سٹیڈیم کے اپنائیت والے ماحول میں پاکستانی ٹیم نے پہلے شائقین کے دل جیتے اور پھر میچ۔
سری لنکن ٹیم نے پہلے دو میچوں میں زبردست فائٹنگ سپرٹ دکھائی تھی لیکن اس بار اس نے آسانی سے گھٹنے ٹیک دیے۔

سری لنکن بولنگ پر پہلے ہی اوس پڑگئی حالانکہ اینجیلو میتھیوز نے ٹاس جیت کر ایک بار پھر اپنے بولرز کو بعد میں بولنگ کرنے سے بچایا تھا۔
محمد حفیظ ڈیل اسٹین کے دیے گئے زخموں سے صحت یاب ہونے کے بعد اب حریف بولرز کو گھاؤ لگانے میں مصروف ہیں۔
سیریز میں دوسری اس سال چوتھی اور مجموعی طور پر آٹھویں سنچری کو ایک سو چالیس ناٹ آؤٹ کےساتھ کریئر بیسٹ سکور بناتے ہوئے انہوں نے پاکستان کا سکور تین سو چھبیس تک پہنچانے کا فریضہ خوب نبھایا تاہم انہیں اپنی اس سنچری پر لستھ مالنگا کا شکریہ ضرور ادا کرنا چاہیے جنہوں نے چھبیس کے انفرادی اسکور پر ان کا آسان کیچ گرادیا تھا۔
شرجیل خان کی وکٹ جلد گرنے کے بعد سری لنکا کو وکٹ کا انتظار ہی رہا لیکن جب وکٹیں ملنے لگیں تو رنز کے بہاؤ میں اس کی نیّا ڈوب چکی تھی۔
محمد حفیظ اور احمد شہزاد کی شراکت میں ایک سو ساٹھ رنز بنے۔احمد شہزاد اکیاسی کے سکور پر مالنگا کے ہاتھوں رن آؤٹ ہوکر سیریز میں مسلسل دوسری سنچری سکور کرنے سے رہ گئے۔
صہیب مقصود نے کریز پر مختصرقیام میں دو چھکوں اور ایک چوکوں سے شائقین کو تالیاں بجانے کا موقع ضرور فراہم کیا لیکن انہیں اور شرجیل خان کو اپنی تکنیک اور اعتماد دونوں میں پختگی لانے کے لیے رہنمائی کی ضرورت ہے جو شاید مزید چند ہفتوں کے مہمان کوچ واٹمور کی طرف سے تو نہ مل سکے لیکن ایسا نہ ہو کہ ان دونوں کی صلاحیتیں ناتجربہ کاری کی نذر ہوجائیں۔

محمد حفیظ اور احمد شہزاد کی شراکت میں ایک سو ساٹھ رنز بنے
مصباح الحق سنتیسویں اوور میں جب بیٹنگ کے لیے آئے تھے تو پاکستان کا سکور تین وکٹوں پر 200 تھا اور جب وہ آؤٹ ہوئے تو 275 رنز بن چکے تھے جن میں سے مصباح کا حصہ ایک سو ترپن کے زبردست اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ چالیس رنز تھا جس میں تین چوکے اور دو چھکے شامل تھے۔
آفریدی کا بلا نہ چلا لیکن عمراکمل نے آخری اوورز میں کولاسیکرا کو دو چھکوں اور ایک چوکے سے اچھا سبق سکھایا۔
حفیظ نے لستھ مالنگا کے آخری تین اوورز میں پانچ چوکوں اور ایک چھکے سے ان کی ہر تدبیر کو ناکام بنایا۔یہ اسی جارحیت کا اثر تھا کہ پاکستانی بیٹسمین آخری دس اوورز میں ایک سو پانچ رنز بنانے میں کامیاب ہوئے۔
گھٹنے کے آپریشن کے بعد نو ماہ کرکٹ سے دور رہنے کے بعد راتوں رات ٹیم میں شامل ہونے والے عمرگل کو اپنی موجودگی کا احساس دلانے میں دیر نہیں لگی اور انہوں نے اپنے دوسرے ہی اوور میں کوشل پریرا اور کرونا رتنے کی وکٹیں حاصل کرڈالیں۔
سری لنکا کی ابتدائی ٹوٹ پھوٹ کی مرمت عام طور پر کمارسنگاکارا اور تلکارتنے دلشن کیا کرتےہیں لیکن جنید خان نے سنگاکارا کو اس کا موقع نہیں دیا۔
دلشن نے کئی خوبصورت اسٹروکس کھیلے لیکن اس ’جارحیت‘ کا خاتمہ شاہد آفریدی نے کیا۔
چندی مل پرسنا اور کولاسیکرا حفیظ اور سعید اجمل کی اسپن کی زد میں آئے جبکہ تشارا پریرا کی اننگز کو آفریدی کا غیرمعمولی کیچ لے ڈوبا اور جب تین زبردست چھکے لگانے والے کپتان میتھیوز سعید اجمل کی گیند پر آؤٹ ہوئے تو آخری بیٹسمینوں مالنگا اور سینانائیکے کے لیے کچھ بھی نہیں بچا تھا۔
اور پھر عمرگل نے مالنگا کو بولڈ کر کے اپنی فٹنس اور جیت دونوں پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔