پاکستان:بارہ سال میں 1833 پولیس اہلکار ہلاک

پاکستان میں شدت پسندی کی حالیہ لہر 2001 میں افغانستان پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حملے کے بعد شروع ہوئی جس میں جہاں عام شہریوں اور فوج کو نشانہ بنایاگیا وہیں ان واقعات میں کم ازکم 1833 پولیس افسر اور اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔

ان حملوں میں سب سے زیادہ افغانستان سے متصل صوبہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان متاثر ہوئے۔

یہ پولیس اہلکار ڈیوٹی کے دوران ہونے والے حملوں، بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے۔

چاروں صوبوں کی پولیس سے حاصل کی گئی تفصیلات کے مطابق شدت پسندی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ خیبرپختونخوا میں 1970 سے سال 2001 تک 31 سالوں میں کل 270 اہلکاراورافسر مارے گئے تھے جبکہ 2002 سے رواں سال کے ماہ نومبر کی گیارہ تاریخ تک یعنی تقریباً 12سالوں سے کم عرصے میں ہلاک ہونے والوں کی یہ تعداد 1030 ہے۔

تاہم 2007 سے 2011 کے پانچ سال اس جانی نقصان کے حوالے سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوئے جب 732 پولیس والوں کونشانہ بنایا گیا اور یہ وہ وقت ہے جب ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کا رجحان دیکھنے میں آیا۔ رواں سال نومبر تک 107 پولیس والے مارے جا چکے ہیں۔

اس طرح سال 1970 سے 2001 تک کے 31 سالوں میں کل586 پولیس والے زخمی یا معذور ہوئے اور اس کے بعد 2002 کے شروع سے لے کررواں سال یعنی 2013کے نومبرکی گیارہ تاریخ تک 2137 پولیس افسر زخمی یا معذور ہوئے۔

اس صوبے میں سب سے زیادہ اعلیٰ سطح کے پولیس افسران کونشان بنایا گیا جن میں ایک ایڈیشنل آئی جی، دو ڈی آئی جیز، پانچ ایس پی، 14 ڈی ایس پیز، 21 انسپکٹرز، 84 سب انسپکٹر، 70 اسسٹنٹ سب انسپکٹر، 93 ہیڈ کانسٹیبل اور 740 سپاہی شامل ہیں۔

پولیس پرحملے سب سے زیادہ تین اضلاع میں ریکارڈ کیے گئے جن میں پشاور264، بنوں 117 اور سوات میں 111 شامل ہیں۔

پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں بھی صورتحال یہ ہی رہی جہاں سال 1980 سے 2002 تک 87 افسر اور اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ اگلے دس سال یعنی 2003 سے 2013 کے دوران 448 افسر و اہلکار ہلاک ہوئے۔

ہلاک ہونے والوں میں ایک ڈی آئی جی، دو ایس پی، آٹھ ڈی ایس پیز، 15 انسپکٹر، 41 سب انسپکٹر، 29 اے ایس آئیز، 107 ہیڈکانسٹیبل اور326 سپاہی شامل ہیں۔

آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بھی سال 2002 سے اب تک 618 افسرو اہلکار مارے جا چکے ہیں جن میں سب سے زیادہ یعنی 91 سال 2009 میں نشانہ بنے۔

سندھ میں پولیس سے حاصل کیے گئے گزشتہ چار سال کے اعداد وشمار کے مطابق سال 2010 میں کل 67 افسر واہلکار ہلاک ہوئے اوراگلے سال یعنی 2011 میں کل 39، 2012 میں 156 اور2013 میں اب تک 25 اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں اور گزشتہ چار سال کے دوران 287 افسرو اہلکار مارے گئے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s