مریخ کا قدیم ترین ٹکڑا ’بلیک بیوٹی‘

Advertisements

ویتنام

ویتنام کے فوٹوگرافر ووچی ترنگ نے ایسٹ ایشیا اینڈ پسیفک خطے سے اس تصویر ’دی گولڈ لائف‘ کے لیے انعام جیتا۔ اس تصویر میں خواتین ریت کے ٹیلوں سے گزر کر اس مقام پر جا رہی ہیں جہاں وہ مچھلیاں پکڑتی ہیں۔

وزیر اعظم کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے سامنے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ سے معاہدے کے تحت نیٹو سپلائی روکی نہیں جا سکتی۔

'Too fat to fly' Frenchman lands in Britain

London: A young Frenchman who was stranded in the United States because he was deemed too heavy to fly finally took a plane to Britain on Monday, one step closer to going home.

Kevin Chenais, who has a hormone imbalance and weighs 230 kilograms (500 pounds), arrived at London’s Heathrow airport with his parents early Monday after Virgin agreed to fly him back from New York.

Chenais, 22, had been in the United States since May 2012 for treatment. He tried to fly home with British Airways last month but the airline said he was too heavy.

The family subsequently tried to sail across the Atlantic, but the Queen Mary cruise ship also refused to have him onboard.

Arriving at Heathrow, Chenais described the flight as “terrible, terrible, terrible”.

“The flight was really hard,” he told AFP in French as he sat on a mobility scooter at the airport, wearing a t-shirt emblazoned with a large US flag.

“I didn’t stop crying for the whole flight.”

But he praised Virgin for flying him out from New York’s JFK airport and paying for the economy-class flight.

“That was very kind of them,” he said.

The family were met at Heathrow by French consular staff who are trying to arrange the final leg to France by Eurostar or Air France.

Chenais, who requires regular oxygen and round-the-clock care, expressed his anger at British Airways and the Queen Mary for refusing to take him home.

“We were all set to take the boat, then they turned us back without even seeing me, without even trying,” he said.

“So I’m really angry — doubly angry because British Airways refused to take me.”

He told AFP he would like to stay in Britain for a while before heading home.

Kevin’s father Rene said his son had been left feeling “empty” when British Airways refused to let him onboard.

The same airline had flown him to the US in the first place, he pointed out.

“They took him out there, but they wouldn’t take him back,” he said.

“This is a case of discrimination.”

The journey was tiring for Kevin and the Virgin plane was not specially adapted for his needs, his father added.

“Kevin has always been kind of alone in life,” he told AFP.

چین کے سپر کمپیوٹر کی پہلی پوزیشن برقرار

دنیا کے تیز ترین سپر کمپیوٹروں کی فہرست میں چینی حکومت کے بنائے ہوئے طاقتور سپر کمپیوٹر نے اپنی پہلی پوزیشن برقرار رکھی ہے۔
لائن پیک معیاری ٹیسٹ کے مطابق ’تیان ہی 2‘ نامی سپر کمپیوٹر کی رفتار 33.86 پیٹا فلاپ فی سیکنڈ ہے جو 33863 ٹریلین کیلکولیشن (حساب کتاب) فی سیکنڈ کرنے کا اہل ہے۔
تیان ہی-2 چینی زبان میں کہکشاں کو کہتے ہیں۔ اس
کمپیوٹر کو چین کی نیشنل یونیورسٹی آف ڈیفنس ٹیکنالوجی نے تیار کیا ہے، اور اسے ملک کے جنوب مشرقی صوبے گوانڈونگ کے شہر گوانگ ژو میں رکھا جائے گا۔
اس کا پروسیسر انٹیل کا بنایا ہوا ہے جب کہ یونیورسٹی نے اس کا سی پی یو(سنٹرل پروسیسنگ یونٹ) خود ڈیزائن کیا ہے۔
اس کمپیوٹر کو ’تحقیق و تعلیم‘ کے شعبے کو پیش کیا جائے گا جبکہ بعض مقامی اطلاعات کے مطابق اس کے استعمال کے لیے موٹر کار صنعت ممکنہ ترجیحی صارف ہو گی۔

تیان ہی کا لائن پیک سکور فہرست میں شامل دوسری پوزیشن پر امریکی کمپیوٹر سے دوگنا ہے۔
ٹائیٹن نامی یہ کمپیوٹر امریکی ریاست ٹینیسی میں اوک رِج نیشنل لیبارٹری میں ہے۔
تاہم ایک ماہر نے کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ چینی کمپیوٹر کی حقیقی کارکردگی امریکی کمپیوٹر سے بہتر ہو گی۔
اس فہرست کی پہلی دس پوزیشنوں میں صرف ایک تبدیلی آئی ہے اور سوئٹزرلینڈ کی نئی پیز ڈینٹ کو جس کی رفتار 6.27 پیٹا فلاپ ہے، چھٹی پوزیشن ملی ہے۔
دنیا کے 500 ٹاپ کمپیوٹرز کی فہرست جرمنی کی مین ہائم یونیورسٹی کے ایک پرفیسر کی سربراہی میں ایک ٹیم سال میں دو دفعہ جاری کرتی ہے۔
یہ ٹیم کسی کمپیوٹر کی رفتار معلوم کرنے کے لیے اس کے ایک خاص قسم کی لینیئر ایکویشن کے سوالات حل کرنے کی رفتار کو معلوم کرتی ہے۔ لیکن وہ کمپیوٹر کی دوسری خصوصیات کو مدِنظر نہیں رکھتی، مثلاً کمپیوٹر کی ایک حصے سے دوسرے حصے میں ڈیٹا منتقل کرنے کی رفتار، جس سے کمپیوٹر کی حقیقی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔
آئی بی ایم نے حالیہ فہرست کے دس میں سے پانچ تیز ترین کمپیوٹر بنائے ہیں۔ اس کمپنی کا کہنا ہے کہ اس فہرست بندی کے طریقۂ کار کو اپ ڈیٹ یا وقت کے مطابق بنانا چاہیے اور وہ اس سلسلے میں ڈینور کولاریڈو میں ہونے والی کانفرنس میں اس کے طریقۂ کار میں تبدیلی کے لیے بات کریں گے۔

امید ہے کہ اب کہ اچھا کھیلیں گے

پاکستانی کرکٹ ٹیم ایک بار پھر جنوبی افریقہ میں ہے جہاں وہ بدھ کےروز جوہانسبرگ کے وانڈررز میں پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیل رہی ہے ۔
پاکستانی ٹیم کا اسی سال یہ جنوبی افریقہ کا دوسرا دورہ ہے۔ مارچ میں اس نے جنوبی افریقہ کے خلاف اسی جوہانسبرگ میں کھیلا گیا واحد ٹی ٹوئنٹی پچانوے رنز سے جیتا تھا جس میں کپتان محمد حفیظ نے صرف پنسٹھ گیندوں پر چھیاسی رنز اسکور کیے تھے اور عمر گل نے صرف چھ رنز کے عوض پانچ وکٹوں کی شاندار بولنگ کی تھی۔

پاکستان:بارہ سال میں 1833 پولیس اہلکار ہلاک

پاکستان میں شدت پسندی کی حالیہ لہر 2001 میں افغانستان پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حملے کے بعد شروع ہوئی جس میں جہاں عام شہریوں اور فوج کو نشانہ بنایاگیا وہیں ان واقعات میں کم ازکم 1833 پولیس افسر اور اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔

ان حملوں میں سب سے زیادہ افغانستان سے متصل صوبہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان متاثر ہوئے۔

یہ پولیس اہلکار ڈیوٹی کے دوران ہونے والے حملوں، بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے۔

چاروں صوبوں کی پولیس سے حاصل کی گئی تفصیلات کے مطابق شدت پسندی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ خیبرپختونخوا میں 1970 سے سال 2001 تک 31 سالوں میں کل 270 اہلکاراورافسر مارے گئے تھے جبکہ 2002 سے رواں سال کے ماہ نومبر کی گیارہ تاریخ تک یعنی تقریباً 12سالوں سے کم عرصے میں ہلاک ہونے والوں کی یہ تعداد 1030 ہے۔

تاہم 2007 سے 2011 کے پانچ سال اس جانی نقصان کے حوالے سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوئے جب 732 پولیس والوں کونشانہ بنایا گیا اور یہ وہ وقت ہے جب ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کا رجحان دیکھنے میں آیا۔ رواں سال نومبر تک 107 پولیس والے مارے جا چکے ہیں۔

اس طرح سال 1970 سے 2001 تک کے 31 سالوں میں کل586 پولیس والے زخمی یا معذور ہوئے اور اس کے بعد 2002 کے شروع سے لے کررواں سال یعنی 2013کے نومبرکی گیارہ تاریخ تک 2137 پولیس افسر زخمی یا معذور ہوئے۔

اس صوبے میں سب سے زیادہ اعلیٰ سطح کے پولیس افسران کونشان بنایا گیا جن میں ایک ایڈیشنل آئی جی، دو ڈی آئی جیز، پانچ ایس پی، 14 ڈی ایس پیز، 21 انسپکٹرز، 84 سب انسپکٹر، 70 اسسٹنٹ سب انسپکٹر، 93 ہیڈ کانسٹیبل اور 740 سپاہی شامل ہیں۔

پولیس پرحملے سب سے زیادہ تین اضلاع میں ریکارڈ کیے گئے جن میں پشاور264، بنوں 117 اور سوات میں 111 شامل ہیں۔

پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں بھی صورتحال یہ ہی رہی جہاں سال 1980 سے 2002 تک 87 افسر اور اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ اگلے دس سال یعنی 2003 سے 2013 کے دوران 448 افسر و اہلکار ہلاک ہوئے۔

ہلاک ہونے والوں میں ایک ڈی آئی جی، دو ایس پی، آٹھ ڈی ایس پیز، 15 انسپکٹر، 41 سب انسپکٹر، 29 اے ایس آئیز، 107 ہیڈکانسٹیبل اور326 سپاہی شامل ہیں۔

آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بھی سال 2002 سے اب تک 618 افسرو اہلکار مارے جا چکے ہیں جن میں سب سے زیادہ یعنی 91 سال 2009 میں نشانہ بنے۔

سندھ میں پولیس سے حاصل کیے گئے گزشتہ چار سال کے اعداد وشمار کے مطابق سال 2010 میں کل 67 افسر واہلکار ہلاک ہوئے اوراگلے سال یعنی 2011 میں کل 39، 2012 میں 156 اور2013 میں اب تک 25 اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں اور گزشتہ چار سال کے دوران 287 افسرو اہلکار مارے گئے۔