…….دھان کے کھیت یا کسی فنکار کی تخلیق,,,,,,,چین میں دھان (چاول) کے کھیتوں میں 3 ڈی انداز میں بنائے گئے نقش و نگار کسی کو بھی دنگ کر سکتے ہیں۔

150627022913_rice_field_art_china_3d_images_624x351_reuters_nocredit

150627023420_china_rice_field_3d_art_640x360_epa

150627023011_rice_field_art_china_3d_images_624x351_rexfeatures_nocredit

150627023031_rice_field_art_china_3d_images_624x351__nocredit

150627023049_rice_field_art_china_3d_images_624x351__nocredit

150627022822_rice_field_art_china_3d_images_640x360_reuters

Advertisements

اسلام آباد : پاک فضائیہ (پی اے ایف) کے فلائنگ آفیسر جنید سلیم نے برطانیہ کی رائل ایئرفورس اکیڈمی میں ’’بہترین غیر ملکی کیڈٹ ‘‘ کا ایوارڈ حاصل کرلیا ۔

558c4814de57c

پاکستان ایئرفورس کے فلائنگ آفیسر جنید سلیم کو ایک خصوصی تقریب میں اس ایوارڈ سے نوازا گیا۔

برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن نے جنید سلیم کی اس کامیابی کا جشن منانے کے لئے جمعرات کو ایک تقریب کا انعقاد کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان ہائی کمشنر سید ابن عباس نے پاک فضائیہ کے آفیسر کو ملک کا نام روشن کرنے اور غیرمعمولی کامیابی پر مبارکباد دی ۔

ان کا کہنا تھا جنید سلیم کی کامیابی پاکستان ایئرفورس کے اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار کا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنید سلیم کی کامیابی نہ صرف پاک فضائیہ بلکہ پوری پاکستانی قوم کے لئے اعزاز کی بات ہے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے تعلیمی اور تربیتی ادارے کسی سے کم نہیں۔

اس موقع پر جنید سلیم نے اپنی کامیابی کو پاک فضائیہ کی رسالپور اکیڈمی میں تربیت اور والدین کی دعاؤں کا نتیجہ قرار دیا۔

فلائنگ آفیسر نے کہا کہ ان کی کامیابی ملک میں امن و استحکام کیلئے دہشت گردوں سے برسرِ پیکار پاکستانی مسلح افواج کا حوصلہ بلند کرے گی۔

قائدِ اعظم کے آخری الفاظ تھے ’خدا پاکستان کی حفاظت فرما ۔۔۔۔ہمارے بعد الطاف الط۔۔۔۔۔‘

_69655861_jinnah2getty 1429690959207651_83903702

وسعت اللہ خان

’ کہا جاتا ہے کہ جب قائدِ اعظم محمد علی جناح بہت زیادہ علیل تھے تو لیاقت علی خان نے ان سے کہا کہ جب ہمارے جیسے لیڈر پاکستان میں نہیں رہیں گے تو پھر اس پاکستان کو آگے کیسے بڑھایا جائے گا۔ قائدِ اعظم نے کہا کہ ہم نہ ہوں گے تو ہمارے بعد الطاف الطاف۔ تو آپ کو یہ نعرہ لگانے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ بات تو انڈر سٹڈ ہے کہ اگر قائدِ اعظم کے ویژن کا کوئی صحیع وارث ہے تو وہ قائدِ تحریک الطاف حسین ہیں۔‘

( بحوالہ ڈاکٹر فاروق ستار ، رکنِ قومی اسمبلی ، سابق وفاقی وزیر و سابق مئیر کراچی)

کم ازکم مجھے ذرا بھی شک نہیں کہ ایسا ہی ہوا ہوگا۔ کیوں کہ جناح صاحب کوئی عام رہنما نہیں تھے، مدبر تھے اور مدبر وہ ہوتا ہے جو مستقبل میں جھانکنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور دیوار کے آر پار دیکھ سکتا ہے۔

لوگ اس تاریخی انکشاف پر طرح طرح کی چے مے گوئیاں کر رہے ہیں۔ کچھ مذاق سمجھ رہے تو کچھ کچھ بھی نہیں سمجھ رہے۔

بعض بال کی کھال نکالنے والوں کا خیال ہے کہ جناح صاحب نے جب یہ بات کہی ہوگی تو ان کے ذہن میں روزنامہ ڈان کے ایڈیٹر الطاف حسین ہوں گے کیونکہ قائدِ تحریک الطاف حسین تو اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ لہذٰا جناح صاحب کیسے کہہ سکتے تھے کہ ہم نہیں تو ہمارے بعد الطاف۔

مگر میں فاروق ستار کے ساتھ ہوں۔ جانے کیوں انہوں نے پورا واقعہ نہیں سنایا۔ ہوا یہ کہ جب جناح صاحب خرابیِ صحت کے سبب کراچی سے زیارت ریزیڈنسی منتقل ہوئے تو اکثر وہ تنہائی سے تنگ آ کے ریزیڈنسی کے باغ میں ٹہلا کرتے اور پھولوں پودوں کو دیکھ کے دل بہلاتے۔

ایک روز ان کی نظر کروٹن کے پتوں پر پڑی تو دیکھا کہ ایک پتے پر کوئی انسانی شبیہہ ہے۔ چونکہ جناح صاحب جہاندیدہ تھے اس لیے ترنت سمجھ گئے کہ یہ شبیہہ دراصل آسمانی اشارہ ہے کہ پریشان مت ہو۔ تمہارے وارث کا انتظام ہو گیا ہے۔ جناح صاحب کے چہرے پر ایک عرصے بعد اطمینان اور مسکراہٹ کی لہر آئی اور اس رات انہیں بہت دنوں بعد سکون کی نیند آئی۔

اگلے روز لیاقت علی خان کراچی سے مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے تو جناح صاحب نے پتے والا واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ میں اور تم تب تک شاید نہ ہوں اس لیے میں اس شبیہہ کو الطاف کا نام دے رہا ہوں۔

کاش جناح صاحب کے ذاتی معالج کرنل الہی بخش، سوانح نگار پوتھن جوزف اور رضوان احمد زندہ ہوتے تو اس واقعہ کی تصدیق ضرور کرتے۔ مگر یہ کوئی ایسا واقعہ نہ تھا کہ آئندہ نسلوں سے پوشیدہ رہتا۔ چنانچہ فاروق ستار نے گذشتہ روز قوم کی امانت قوم تک پہنچا دی۔

جب دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی یہ بات مانی جاسکتی ہے کہ بھارت ورش میں ڈیڑھ لاکھ سال پہلے ہوائی جہاز اڑا کرتے تھے۔ جب اس پہ کسی کو اعتراض نہیں کہ محمد بن قاسم پہلے پاکستانی تھے۔ جب جارج بش کی یہ دلیل ہضم ہوسکتی ہے کہ انھیں خداوند نے بشارت دی کہ عراق پر قبضہ کرلو۔

جب یہ بات قابلِ فہم ہے کہ شیخ الاسلام علامہ طاہر القادری 14 برس امام ابوحنیفہ کے شاگرد رہے۔ جیسے پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف کو یقین ہے کہ اصل قربانی دینے والے مہاجر صرف وہ ہیں جو مشرقی پنجاب اور جموں سے لٹ پٹ کر پاکستان پہنچے تو پھر یہ ماننے میں کیا ہچر مچر کہ جناح صاحب اور لیاقت علی خان ایک ساتھ بول اٹھے

ہم نہ ہوں گے تو ہمارے بعد الطاف الطاف۔

ارے ہاں! ایک اہم بات تو فاروق ستار صاحب نے بتائی ہی نہیں۔ جب جناح صاحب 11 ستبمر 1948 کو حالت بگڑنے کے سبب زیارت سے بذریعہ طیارہ کراچی پہنچائے گئے تو انہیں ماری پور بیس سے گورنر جنرل ہاؤس لانے والی ایمبولینس راستے میں ہی خراب ہو گئی۔

قائدِ اعظم کے آخری الفاظ تھے ’خدا پاکستان کی حفاظت فرما ۔۔۔۔ہمارے بعد الطاف الط۔۔۔۔۔‘

( فاروق ستار سے حوصلہ پا کے کہیں کل کلاں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ 1947 میں تقسیم نہیں چائنا کٹنگ ہوئی تھی ۔۔)

Nestle withdraws Maggi noodles in India after food scare

55714f1d494dc

MUMBAI: Food group Nestle has withdrawn Maggi noodles from sale in India due to “an environment of confusion for consumers”, following a food scare sparked by reports of excess lead in some packets of the popular instant snack.

Nestle reiterated the noodles were safe, but after coming under fire in local media for reacting too little and too late, the group said it would recall the product regardless.

At least six Indian states have banned Maggi noodles after tests revealed some packets contained excess amounts of lead. On Thursday, Tamil Nadu became the first state to ban several brands of instant noodles, including Nestle.

“The trust of our consumers and the safety of our products is our first priority,” the group said in a statement on Friday.“Unfortunately, recent developments and unfounded concerns about the product have led to an environment of confusion for the consumer to such an extent that we have decided to withdraw the product off the shelves, despite the product being safe.”

Nestle India said on Wednesday it had conducted internal and external tests of 125 million Maggi packets which showed “lead levels are well within the limits specified by food regulations and that Maggi noodles are safe to eat.”

Maggi noodles, which sell at roughly a dozen rupees per single-serving packet, are a hugely popular snack in India, served to children and in roadside shacks across the country. Maggi has long been market leader.

The food scare is a reminder of Indian consumers’ growing affluence and subsequent increased health awareness, at a time when social media can turn a scare in one state into a national cacophony within hours.

ایگزیکٹ: پہلے کیا، آگے کیا؟

150423191226_sp_fbi_624x351_afp

ایگزیکٹ کیس کے معاملے میں پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔

لیکن ایف بی آئی کے ایک سابق اہلکار کے مطابق ایف بی آئی کی جعلی ڈگریوں کے معاملے میں دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے اور اس کی روک تھام کے لیے باقاعدہ قوانین بھی نہیں۔

سابق ایف بی آئی ایجنٹ ایلن ایزل ماضی میں ایسی تفتیش کا حصہ رہ چکے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان معاملوں سے منی لانڈرنگ اور پوسٹل فراڈ جیسے قانون استعمال کر کے ہی نمٹا جاتا ہے۔ ’اور یہ بھی تب ہی ممکن ہے جب پاکستان اپنی تفتیش کی مکمل تفصیلات امریکہ کو فراہم کرے۔ اگر پاکستان اس معاملے سے متعلق کون، کیا، کب اور کہاں کی مکمل فہرست فراہم نہیں کرتا تو ایف بی آئی کیا کر سکتی ہے؟‘

ان کے تحفظات کی کئی وجوہات ہیں۔ جعلی ڈگریوں کا سکینڈل کوئی نئی بات نہیں بلکہ اس نوعیت کے فراڈ کی تاریخ سات سو سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ لیکن انٹرنیٹ آنے کے بعد نہ صرف اسے ایک نئی زندگی ملی بلکہ پھلنے پھولنے کے لیے پہلے سے ایک بہت بڑی دنیا بھی۔

ڈاکٹر جان بئیر فاصلاتی تعلیم کے ماہر ہیں اور ان کی کئی کتابوں میں سے ایک ’ڈگری ملز‘ کے عنوان سے بھی ہے۔ ڈاکٹر بیئر نے بی بی سی اردو کو بتایا: ’انٹرنیٹ نے نہ صرف ڈگری ملوں کے اخراجات کم کر دیے بلکہ ایسی ملیں چلانے والوں کو گمنام رہنے کی سہولت بھی دے دی۔‘

اس کی وجہ سے یہ کاروبار کس قدر پھیلا، اس کا جامع تعین تو ممکن نہیں لیکن ایلن ایزل کے اندازے کے مطابق یہ سالانہ ایک ارب ڈالر سے بھی بڑا کاروبار ہے جس میں دنیا بھر میں ہر سال دس لاکھ سے زائد جعلی ڈگریاں فروخت ہوتی ہیں۔

لیکن ڈاکٹر بیئر کے مطابق اس کے باوجود اس معاملے سے نمٹنا امریکی ترجیحات میں شامل نہیں۔’ہم دہشت گردی یا منشیات کو اپنا اصل دشمن سمجھتے ہیں۔ جعلی ڈگریاں ہمارے لیے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتیں۔‘

شاید اسی لیے اس معاملے سے نمٹنے کی لیے امریکہ میں نہ تو خاص قوانین ہیں اور نہ ڈپلومہ ملز کی کوئی مخصوص تشریح۔ اگر کوئی ڈگری جعلی ثابت ہو بھی جاتی ہے تو دفاع کے وکیل یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ خریدنے والے نے یہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے ڈگری خریدی اس لیے اس کو فراڈ نہیں کہا جا سکتا۔

یہ ایک بڑی وجہ ہے کہ امریکہ میں یہ کاروبار بڑے وسیع پیمانے پر کیا جا چکا ہے۔

ایسا ایک مشہور کیس یونیورسٹی ڈگری پروگرام کے نام سے 1990 کی دہائی میں سامنے آیا۔ اس میں جیسن اور کیرولائن ابراہم نامی دو امریکنوں نے رومانیہ اور اسرائیل میں قائم کال سنٹرز کے ذریعے دو لاکھ جعلی ڈگریاں بیچ کر تقریباً 40 کروڑ ڈالر کمائے۔

سینٹ ریجس کے نام سے ایسے ہی ایک اور کاروبار میں ڈکسی اور سٹیو رینڈاک نامی امریکیوں نے 22 ملکوں میں پھیلی 121 جعلی یونیورسٹیوں کے ذریعے 131 ملکوں کے گاہکوں میں 73 لاکھ ڈالر کی ڈگریاں فروخت کیں۔

اس کے باوجود تین برس پر پھیلی تفتیش کے بعد رینڈاکس کو جعل سازی کے الزام میں محض تین برس قید ہوئی۔

ان مشکلات کی ایک بنیادی وجہ انٹرنیٹ دور میں اپنے نقش قدم چھپانے کی آسانی ہے۔ آپ سائبر سپیس میں جعلی یونیورسٹی تو بنا سکتے ہیں لیکن اسے ختم کرنے کے لیے عدالتوں کو حقیقی دنیا میں ٹھوس ثبوت چاہیے ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جعلی ڈگریاں حاصل کرنے والے اعلیٰ سرکاری عہدوں پر جا پہنچتے ہیں۔ مثلاً ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سینٹ ریجس سے ڈگری حاصل کرنے والوں میں سے کم از کم ایک سو پینتیس افراد وفاقی حکومت کے ملازم تھے جن میں سٹیٹ ڈپارٹمنٹ، جسٹس ڈپارٹمنٹ اور وہائٹ ہاؤس کے ملازمین بھی شامل تھے۔

اسی طرح دو ہزار تین میں ہونے والے انکشافات میں پتہ چلا کہ امریکہ میں چار سو چونسٹھ وفاقی ملازمین کی ڈگریاں بوگس تھیں۔ ان میں ہوم لینڈ سیکیورٹی کی ڈپٹی چیف انفارمیشن آفیسر لارا کیلیہن بھی شامل تھیں۔

یونیورسٹی آف الینوئے کے پروفیسر جارج گولن ڈپلوما ملز کے خلاف جدوجہد میں پیش پیش ہیں۔ انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ وفاقی اہلکاروں کی جعلی ڈگریوں پر بھی کم ہی کوئی کارروائی ہوتی ہے۔ ’جب بھی کسی وفاقی اہلکار کی ڈگری جعلی نکلتی ہے تو سب ہی کی کوشش اس پر پردہ ڈالنے کی ہوتی ہے کیونکہ مزید تفتیش ان لوگوں کو نوکریاں دینے والوں کے لیے بھی شرمندگی کا باعث بن سکتی ہے۔‘

اس سے کہیں زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ خود انتہاپسندوں نے بھی پیسے کمانے کے لیے جعلی ڈگریوں کے کاروبار کا سہارا لیا ہے۔ آندریس بریوک نے، جس نے 2011 میں ناروے کے ایک جزیرے پر 77 نوجوان قتل کر دیے تھے، واردات سے پہلے جعلی ڈگریاں بیچ کر دس لاکھ ڈالر کمائے تھے۔

لیکن اس کے باوجود اس فراڈ کے خلاف موثر کاروائی انتہائی مشکل ہے۔ ایگزیکٹ سے منسلک ویب سائٹوں کی تعداد 370 بتائی جا رہی ہے اور اس کے ملازمین دو ہزار سے بھی زیادہ۔ اسی لیے سابق ایف بی آئی ایجنٹ ایلن ایزل کہتے ہیں کہ ایگزیکٹ ایک نئی ہی قسم کا موذی ہے۔ ’یہ کوئی عام ڈپلوما مل نہیں۔ یہ اس نوعیت کا سب سے بڑا کیس ہے۔‘

ڈاکٹر بیئر کے مطابق سو ملکوں میں پھیلے اس کاروبار کے خلاف شواہد اکٹھے کرنا آسان نہیں کیونکہ ان میں سے بہت سے ملکوں کو اس کے ذریعے لاکھوں ڈالر کا فائدہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ہر ملک کے اپنے قوانین ہیں اور ان سے تعاون حاصل کرنے کے لیے ایک انتہائی مضبوط عزم اور لمبا عرصہ درکار ہے۔

یہ کسی طاقتور کو ڈھیر ہوتے ہوئے دیکھنے کا لطف ہے یا معاشرے میں بدعملی کم کرنے کی خواہش؟ جو بھی ہے، لیکن ایگزیکٹ کے معاملے میں انصاف کی دہائی جس طرح سے پاکستانی میڈیا پر گونج رہی ہے اس کی شاید ہی کوئی مثال ملتی ہو۔

اس میں شک نہیں کہ اپنے کاروباری مفاد اور ’بغض‘ کے باعث ایگزیکٹ کیس کی پیشرفت میں حکومت سے کہیں زیادہ میڈیا دلچسپی لے رہا ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں اس کیس کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹوں کے علاوہ میڈیا میں اس معاملے پر حکومتی عزم پر تشویش نظر آتی ہے وہیں یہ امید بھی اس معاملے کی بین الاقوامی نوعیت کی وجہ سے ملزم کو مجرم ثابت کرنے کا یا تو کوئی نہ کوئی رستہ نکل آئے گا یا نکال لیا جائے گا۔

تاہم اگر ماضی میں سامنے آنے والے اسی نوعیت کے سکینڈلوں پر نظر ڈالی جائے تو یہی لگتا ہے کہ ابھی جزا سزا کا تعین کرنے میں بہت وقت لگے گا۔ جعلی ڈگریوں کے اس گدلے تالاب میں قانونی پیچیدگیوں کا ایک ایسا سمندر ہوتا ہے جس کی تہہ میں چھپے ثبوت تلاش کرنے کے لیے مہینے نہیں سالہاسال درکار ہوتے ہیں۔

اور اگر آخرکار کسی کو سزا ہو بھی جائے تو وہ سکینڈل کی باز گشت کے مقابلے میں محض ایک سرگوشی سی ہوتی ہے۔

بیالیس سال تک کوما میں رہنے والی نرس کی موت

150518052014_aruna_shanbaug_640x360_afpgetty_nocredit

ممبئی کے ایک ہسپتال میں چار دہائیوں تک کوما میں رہنے والی نرس ارونا شانباگ پیر کو 68 سال کی عمر میں فوت ہو گئی ہیں۔

سنہ 1973 میں کنگز ایڈورڈ میموریئل (کے ای ایم) ہسپتال کے ایک ملازم نے انھیں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

اس واقعے کے دوران ان کے سر پر گہری چوٹ آئی، بینائی جاتی رہی اور کانوں سے سننا بھی کم ہو گیا اور ارونا کے دماغ کو آکسیجن نہ مل پانے کی وجہ سے وہ کوما میں چلی گئی تھیں۔

انھیں کے ای ایم ہسپتال میں ہی رکھا گیا تھا اور ہسپتال کے عملے نے ہی ان کی چار دہائیوں تک دیکھ بھال کی کیونکہ ان کے رشتے داروں نے بھی انھیں دیکھنے آنا بند کر دیا تھا۔

کے ای ایم ہسپتال کے ڈیوٹی افسر ڈاکٹر پروین بانگر کے مطابق ’پیر کی صبح بھارتی وقت کے مطابق ساڑھے آٹھ بجے ارونا شانباگ کی موت واقع ہو گئی۔‘

وہ گذشتہ چار دنوں سے وینٹیلیٹر پر تھیں۔ انھیں نمونیا ہو گیا تھا۔

ارونا شانباگ کے ساتھ اسی ہسپتال کے ایک ملازم سوہن لال والمکی نے 42 سال قبل ریپ کیا اور انھیں گلا گھونٹ کر قتل کرنے کی کوشش کی اور بعد میں مردہ سمجھ کر چھوڑ چلا گیا۔

ارونا شانباگ پر کتاب لکھنے والی پنکی ويراني نے سپریم کورٹ میں درخواست داخل کی تھی کہ ارونا کو مرسی کلنگ یعنی رحم کی بنیاد پر موت کی اجازت دی جائے۔

اس پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے ہسپتال کی نرسوں اور سٹاف کی تعریف کی جنھوں نے گذشتہ 42 سالوں سے ارونا کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، ان کا اتنا خیال رکھا کہ ارونا کو اتنے برسوں بستر پر لیٹے رہنے کے باوجود ایک بھی زخم نہیں ہوا۔

ہسپتال کی میٹرن ارچنا جادھو نے ایک بار کہا تھا کہ ’ہسپتال کے تمام لوگ ارونا کی خدمت اپنے گھر کے فرد کی طرح کرتے رہے اور کوئی بھی انھیں رحم کی بنیاد پر ابدی نیند سلانے کے حق میں نہیں تھا۔‘

سعودی بمباروں کا انعام بینٹلے گاڑیاں؟

سعودی شاہی خاندان کے شہزادے الولید بن طلال نے بظاہر ایک ٹویٹ میں یمن پر بمباری میں حصہ لینے والے جنگی طیاروں کے پائلٹوں کو انتہائی مہنگی بینٹلے گاڑیاں 150209145106_ben-talal_640x360_afpدینے کی پیشکش کی ہے۔

اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی اور ان پر بہت تنقید کی جا رہی ہے۔

رواں ہفتے کے آغاز میں سعودی عرب نے اعلان کیا تھا کہ یمن میں جاری اس کی فوجی مہم کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے۔

اس کے نتیجے میں خوشی کے طور پر شہزادے الولید بن طلال نے، جن کا شمار سعودی عرب کی امیر ترین شخصیات میں ہوتا ہے، اپنے 30 لاکھ فولورز کو ٹویٹ کیا کہ ’اس آپریشن میں ان کے کردار کو سراہنے کے لیے سعودی پائلٹوں کو 100 بینٹلے گاڑیوں کی پیشکش میرے لیے اعزاز کی بات ہو گی۔‘

اس پیشکش کے ردعمل میں سوشل میڈیا پر رائے منقسم نظر آئی۔ 28 ہزار سے زائد افراد نے ان کے اس پیغام کو شیئر کیا اور پانچ نے اسے لائیک کیا۔

ان کی اس ’فراخدلی‘ کے تعریف کی گئی اور کئی سعودی شہریوں کا کہنا تھا کہ پائلٹ واقعی ان گاڑیوں کے حقدار ہیں۔

لیکن سعودی عرب سے باہر خاص کر یمن میں ان کی یہ پیشکش لوگوں کو ناگوار گزری اور ایک یمنی شہری نے ٹویٹ کیا کہ ’یمن پر بمباری کرنے والے سو پائلٹوں کے لیے سو بینٹلے گاڑیاں لیکن جو ہسپتال انھوں نے تباہ کر دیے ان کے لیے ایک ایمبولینس بھی نہیں۔‘

ایک دوسرے یمنی شہری اس سے پہلے سعودی بمباری سے تباہ ہونے والے اپنے گھر کی تصاویر ٹویٹ کر چکے تھے اور اس پر ان کا ردعمل تھا کہ ’شہزادے الولید نے سعودی پائلٹوں کو سو بینٹلے گاڑیاں دیں۔ میرا اپارٹمنٹ تباہ ہوگیا۔ لیکن پھر بھی مجھے یقین ہے کہ میرا حوصلہ ان تمام پائلٹوں سے بلند ہے۔‘

بعض لوگوں نے دنیا کے غریب ترین ممالک میں سے ایک یمن کے عوام اور سعودی عرب جیسے امیر ملک میں رہنے والوں کے درمیان عدم مساوات کی جانب توجہ دلائی۔

اردن کے ایک شہری نے ٹویٹ کیا کہ ’تو کیا اس سب کا مقصد یہ تھا کہ سو یا دو سو جانیں ایک بینٹلے کے لیے، کیا انسانی زندگی اتنی ہی سستی ہے؟‘

سعودی عرب میں ’خاکروب بچی‘ کی تلاش

ایک خوش لباس سعودی شخص نے ایک مہاجر لڑکی کی تصویر سوشل میڈیا پر تضحیک کے طور پر پوسٹ کی لیکن لوگ اس لڑکی کی مدد کے لیے اس کی تلاش مصروف ہیں۔

اس شخص نے کوڑا چننے والی اس افریقی مہاجر بچی کے ساتھ اپنے موبائل سیٹ پر سیلفی لے لی جو جدہ کے ایک کوڑے دان سے کچھ چن رہی تھی۔

تصویر میں وہ 10 سال کی ایک لڑکی نظر آتی ہیں اور انھوں نے الاتحاد فٹبال ٹیم کی ٹی شرٹ پہن رکھی تھی جس پر سعودی شخص طنز کرنے سے باز نہ رہ سکا۔

یہ تصویر سنیپ چیٹ پر پہلے پہل ڈالی گئی تھی

اس نے تصویر کے ساتھ لکھا: ’دیکھیں الاتحاد کہاں پہنچ چکا ہے، کوڑے دان میں۔‘

ان کی جانب سے یہ تصویر سنیپ چیٹ پر ڈالی گئی تھی جسے بعد میں ہٹا لیا گیا تاہم یہ تصویر دیگر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر گردش کرتی رہی۔

بہت سے لوگوں کو یہ تصویر مذاحیہ نہ لگی اور آن لائن پر زیادہ تر لوگوں نے اس پر غم و غصے کا اظہار کیا۔

لوگوں نے اسے بھدے مذاق سے تعبیر کیا یہاں تک کہ سعودی شخص کو نسلی امتیاز کا مرتکب بھی قرار دیا جس نے اس اقدام کے لیے ایک غریب بچی کا سہارا لیا۔

ایک شخص نے ٹوئیٹر پر لکھا ’یہ ایک تشہیری بازی گری ہے۔ بیچاری لڑکی کو تو یہ بھی نہیں معلوم ہوگا کہ کیا ہو رہا ہے۔‘

اس واقعے نے سعودی باشندوں اور مہاجروں کے درمیان کی کشیدگی کو بھی پیش کیا ہے۔ باہر سے آنے والے یہاں مشکل کام کرتے ہیں اور مشکل حالات میں گزربسر کرتے ہیں۔

پہلے اس ملک میں دوسرے ملکوں سے کام کرنے کے لیے آنے والوں کے حقوق کے بارے میں کوئی ہمدردی نہیں تھیں اور یہ ضرور ہے کہ اس واقعے پر بہت سے تبصرے دوسرے ملکوں سے ہوئے ہیں تاہم اس بار بہت سے سعودیوں نے بھی اس شخص کی مذمت کی ہے۔

بعد میں اس شخص نے اسے تحفے بھی دیے جبکہ بہت سے لوگ اس لڑکی کی امداد کو سامنے آئے ہیں

ایک سعودی خاتون نے ٹوئیٹ کیا: ’یہ شخص ہماری عزت نہیں کرتا۔‘

بعد میں اس شخص نے یوٹیوب پر ای ویڈیو پوسٹ میں معافی مانگی اور وہ اس بجی کے پاس پھر سے گیا اور اسے تحفے دیتے ہوئے اس کے ساتھ اپنی ایک تصویر پوسٹ کی ہے۔ جبکہ دوسرے اس کی مدد کے لیے آگے آئے ہیں۔ چونکہ انھیں اس بچی کا پتہ نہیں معلوم اس لیے ’جدہ کی بچی کی تلاش‘ کے ہیش ٹیگ سے تقریبا دو لاکھ ٹوئیٹ کیے گئے ہیں۔

ایک الاتحاد کے امیر مداح نے اس لڑکی کو 16 ہزار امریکی ڈالر دینے کا عہد کیا ہے تو سعودی ریسنگ کار کے ڈرائیور یزید الرجحی نے ایک لاکھ امریکی ڈالر کا وعدہ کیا ہے۔

لندن میں مقیم ایک سعودی شوسل میڈیا مبصر فورغن المدحی کا کہنا ہے کہ ’سعودی سماج بہت فیاض ہے۔۔۔ لیکن یہاں یہ دیکھنا ہے کہ لوگوں نے جو وعدہ کیا ہے اسے پورا بھی کرتے ہیں۔‘

آخری اطلاعات تک ابھی تک لڑکی کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔

ترکی کی گوگل کو دھمکی

150406144044_turkey_twitter_yuotube_640x360_epa_nocredit

ترکی نے گوگل کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے بندوق کے زور پر یرغمال بنائے جانے والے پراسیکیوٹر کی تصاویر والے لنکس اپنے سرچ انجن سے نہ ہٹائے تو وہ اس پر پابندی لگا دے گا۔

یہ تصاویر گذشتہ ہفتے استنبول کی ایک عدالت کے محاصرے کے دوران لی گئی تھیں جس میں دو بندوق برداروں نے ایک پراسیکیوٹر کو یرغمال بنا لیا تھا۔ پراسیکیوٹر کو بچانے کی ناکام کوشش میں دو پولیس اہلکار بھی حملہ آوروں کے ساتھ ہی ہلاک ہو گئے تھے۔

جب گوگل نے یہ تصاویر دکھانے والی سائٹوں کے لنک ہٹا دیے تو گوگل پر پابندی بھی اٹھا لی گئی۔

ترکی نے تھوڑی دیر کے لیے کئی سوشل نیٹ ورک سائٹوں کو بھی بند کر دیا تھا جہاں یہ تصاویر گردش کر رہی تھیں۔

چھ اپریل کو ترکی کی ایک عدالت نے نیٹ سروس مہیا کرنے والی کمپنیوں کو کہا کہ وہ یوٹیوب، ٹوئٹر، فیس بک اور 160 سے زیادہ سائٹوں کی انٹرنیٹ تک رسائی منقطع کر دیں جو یہ متنازع تصاویر دکھا رہی تھیں۔ ان متنازع تصاویر میں دکھایا گیا تھا کہ ماسک پہنے ہوئے ایک شخص پراسیکیوٹر محمد سلیم کراز کے سر پر بندوق رکھے کھڑا ہے۔

بظاہر کراز کو اس وجہ سے یرغمال بنایا گیا تھا کہ وہ 2013 میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے دوران ایک بچے کی ہلاکت کی تحقیقات کر رہے تھے۔

جن ماسک پہنے ہوئے افراد نے انھیں یرغمال بنایا ان کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ وہ بائیں بازو کی ڈی ایچ کے پی سی پارٹی سے تعلق رکھتے تھے۔ جب پولیس نے پراسیکیوٹر کراز کو بچانے کی کوشش کی تو وہ بھی دونوں بندوق برداروں کے ساتھ ہلاک ہو گئے۔

پیر کو تین بڑی سوشل میڈیا سائٹوں نے تصاویر کی کاپیاں اپنے اپنے نیٹ ورک سے اٹھا لیں تو ان تک رسائی کھول دی گئی۔

اس کے بعد عدالت نے ایک اور حکم میں گوگل کو خبردار کیا کہ وہ اگر اپنے سرچ انڈیکس سے متنازع تصاویر کے لنکس نہیں اتارتا تو اس پر بھی پابندی لگا دی جائے گی۔

گوگل نے ابھی تک باقاعدہ طور پر پابندی اور اس طرح کی کسی کارروائی سے بچنے کے لیے کیے جانے والے اقدام پر بات نہیں کی ہے۔

قانونی کارروائی سے پہلے یہ تصاویر بہت تیزی سے آن لائن اور کچھ اخبارات میں محاصرے پر لکھے ہوئے مضامین کے ساتھ دکھائی جا رہی تھیں۔ ترکی کی حکومت نے کہا تھا کہ ان تصاویر کو پرنٹ اور شیئر کرنا دہشت گرد تنظیم کے لیے پروپیگنڈا سمجھا جائے گا۔

ڈی ایچ کے پی سی کو ترکی، یورپی اتحاد اور امریکہ دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں۔

یوحنا آباد سانحے میں ملوث 100 افراد کی شناخت

150316181244_lahore_christians_chruch_blast_riots_624x351_afp

لاہور کے علاقے یوحنا آباد میں چرچ حملوں کے بعد توڑ پھوڑ اور دوافراد کوجلائے جانے کے مقدمات میں ملوث 100 افراد کی شناخت کر لی گئی ہے۔

پولیس حکام، جو اب تک اس حوالے سے گرفتاریوں کی تردید کرتے رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ ان افراد کی گرفتاریوں کا سلسلہ جمعے کی رات سے شروع کر دیا جائے گا۔

یوحنا آباد کے سانحے کے بعد دو روز تک جاری رہنے والے پُر تشدد مظاہروں کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تفتیشی ٹیم بنائی گئی تھی جس نے ابتدائی کام مکمل کر لیا ہے۔

ٹیم میں شامل ایس ایس پی انویسٹی گیشن ایاز سلیم کہتے ہیں کہ ’پولیس نے ٹیلی وژن پر چلنے والی فوٹیج اور موقعے پر موجود پولیس اہلکاروں اور نادرا کے ذریعے سو افراد کی شناخت کر لی ہے۔ ان میں سے اکثریت توڑ پھوڑ میں شامل تھی، تاہم دس سے 15 افراد ایسے ہیں جو نعیم اور بابر نعمان کو جلانے میں ملوث ہیں۔ ان لوگوں کی گرفتاری کا عمل آج رات سے شروع کیا جا رہا ہے۔‘

ایاز سلیم کا کہنا ہے کہ ان میں سے کئی لوگ یوحنا آباد کے ہی رہنے والے ہیں تاہم کچھ کا تعلق شہر کی دوسری مسیحی آبادیوں سے بھی ہے۔

’ہم نے چرچ کے پادریوں اور کمیونٹی لیڈروں سے درخواست کی ہے کہ وہ ان لوگوں کو خود پولیس کے حوالے کر دیں جن کی شناخت ہو چکی ہے۔ ان لوگوں نے ذمےداروں کی گرفتاری میں تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔‘

دوسری جانب یوحنا آباد میں ابھی بھی بےیقینی، سوگ اور خاموشی چھائی ہے۔ یہاں کا مرکزی بازار عام دنوں میں اتنا مصروف ہوتا ہے کہ چلنا محال ہو جاتا ہے لیکن آدھا بازار دھماکوں کے بعد سے تاحال بند ہے۔ جو یہاں موجود ہیں وہ بھی پریشان دکھائی دیے۔

بازار میں جوتے مرمت کرنے والے صابر مسیح نے بتایا: ’سادہ کپڑوں والی پولیس بندوں کو اٹھا رہی ہے۔ بہت سے لڑکوں کو گرفتار کیا گیا ہے، کچھ جائز اور کچھ ناجائز۔ یوحنا آباد تو خالی ہوگیا ہے۔ کئی لوگ تو خوف سے علاقہ ہی چھوڑ گئے ہیں۔‘

یوحنا آباد میں کرائسٹ چرچ سے کچھ گز کے فاصلے پر کپڑے کی ایک دکان ہے جس پر تالہ پڑا ہے۔ ساتھ ہی ایک نیا مکان ہے جس پر لگی تختی پر ’زاہد یوسف عرف گوگا‘ لکھا ہوا ہے۔ یہ وہی زاہد یوسف عرف گوگا ہیں جنھوں نے 15 مارچ کو کرائسٹ چرچ کے باہرخودکش بمبار کو روکتے ہوئے اپنی جان دے دی تھی۔

ان کے خاندان کو گوگا کے کارنامے پر تو بہت فخر ہے، لیکن ان سے جدائی کا غم اب بھی تمام جذبات پر حاوی ہے۔ زاہد یوسف کے بھائی ریاض فضل نے حملے کے روز کی تفصیلات بتائیں۔

’جب میں نے اپنے بھائی کو چرچ کے باہر خون میں لت پت دیکھا تو میرا ذہن ماؤف ہوگیا۔ میں نے اسے پہچانا ہی نہیں۔ پھر آس پاس کھڑے لڑکوں نے مجھے بتایا کہ یہ گوگا ہی ہے۔ میں نے اسے پکڑا اور اس کا چھلنی جسم دیکھ کر میں حواس باختہ ہوکر زمین پر گر گیا۔‘

پولیس کی جانب سے چرچ پر حملہ آور ہونے والے خودکش بمباروں کے خاکے جاری کیے جا چکے ہیں۔ تاہم حملہ آوروں کی شناخت اور سہولت کاروں کا پتہ لگانے کے سلسلے میں کوئی اہم پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔

پولیس اس وقت حملوں سے زیادہ چرچ دھماکوں کے بعد ہونے والی توڑ پھوڑ، اور اس سے بھی زیادہ دو افراد کو جلانے والوں کی گرفتاریوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے دکھائی دیتی ہے۔

واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم مشترکہ تفتیشی ٹیم کے ایس ایس پی ایاز سلیم کا کہنا ہے کہ خاص طور پر تشدد کر کے جلانے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانا بہت ضروری ہے۔ ’اگر ایسا نہ ہوا تو مستقبل میں نہ صرف مذہبی اور فرقہ وارانہ فسادات کا خدشہ ہے بلکہ ہجوم خود سے منصف بننے لگیں گے اور صورت حال انتہائی خطرناک رخ اختیار کر لے گی۔‘

محمد نعیم اور بابر نعمان کو جلانے جانے کے بعد یوحنا آباد کے مسیحی اردگرد کی مسلمان آبادیوں سے بھی خوفزدہ ہیں۔ دھماکے میں ہلاک ہونے والے زاہد یوسف کی بھائی ریاض فضل کہتے ہیں:

’جن لوگوں نے دو افراد کو جلایا ہے ہم انھیں بھی دہشت گردوں کے زمرے میں ڈالتے ہیں۔ لیکن میں مسلمان بھائیوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ محمد نعیم اور نعمان بابر کو مسلمان ہونے پر نہیں بلکہ دہشت گرد ہونے کے شبے میں نشانہ بنایا گیا۔‘

پولیس کے باوردی اور سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار ابھی بھی یوحنا آباد میں موجود ہیں۔

یہاں زندگی معمول پر کب آئے گی، ابھی اس کا اندازہ لگانا ذرا مشکل ہے۔